پوسٹ – 2021-07-22

گفتگو میں استحقاق اور الفاظ میں طاقت بھرنے کی ایک چھوٹی سی ٹپ۔nnمیں فلاں شخص کو جج نہیں کرتا۔
اس جملے کو ادا کرنے والے لوگ مرکزی طور پر ، تین اقسام کے ہوتے ہیںnnپہلی قسم
پاکستانی مسلمان ( یعنی خمیر سے ہی دورنگی کے شوقین) nیعنی جج نہیں کرتا بول کر، ساری گفتگو کا مرکز اسی شخص کی غیبت ہوتی ہے ۔nnوہ لوگ جو ، ججمنٹ تو دور کی بات، گمان تک نہیں بناتے، nاور ایسا کرنا انتہائی مشکل ہے پاکستانی قوم کے لیے، خصوصا اور انسانوں کے لیے عموماnnوہ لوگ جو اس لیے یہ جملہ کہتے ہیں،
کہ انہیں موت پڑتی ہے اپنا موقف کلئیر بیان کرنے سے۔۔ nسیف سائیڈ پیپل پلیزر ٹائپ لوگ۔ nیہ مہلک ترین ہوتے ہیں، اور انہیں جب سائیڈز منتخب کرنے کو کہا جائے تو ان کی ذہنی فرسٹریشن دیکھنے والی ہوتی ہے۔nnسوال
جج کرنا چاہئے ؟
مکمل تحقیق اور، بات کے ہر پہلو کو جانچ کر
اظہار کرنا چاہیے، nاگر تو محض شر برائے شر اظہار کرنا ہے تو نہیں، لیکن اگر اس لیے اظہار کرنا ہے کہ ذاتی ٹسل یے، تب بھی نہیں (ہاں اس شخص کے سامنے ضرور کریں کہ تم زلیل ہو اور اسلیے تم سے یہ رویہ ہے)nاگر ذاتی مفاد کے لیے ججمںٹ روکنی ہے، تو مت روکیں ورنہ پیپل پلیزر کہلائیں گے
لیکن اگر اس لیے کرنا ہے، کہ کوئی اجتماعی/سماجی فائدہ ہے تو پھر ہر مروت بالائے طاق رکھ کر کریں۔
نہ رشتہ دیکھیں نہ سیاسی مفاد

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.