طاقتور ترین الفاظ، شجر ممنوعہ کی چوٹیوں پہ اگتے ہیں۔
ان معاشروں میں، طاقت ور تصانیف / تحاریر/ اثر انگیز لٹریچر نہیں پنپتا ، جہاں
الہامی احکامات کیا کہتےہیں سے زیادہn ‘لوگ کیا کہیں گے’nسوچ کر منہ بند رکھا جائے۔
ماضی میں
جتنا پاور فل لٹریچر، آرٹ تخلیق ہوا ہے، خواہ پاکستان میں ہو یا باہر۔
وہ سیدھا سیدھا، شجر ممنوعہ کی جڑ کاٹتا ہوا تھا۔
آج کیوں نہیں تخلیق ہو رہا ؟
مذہبی افیون اور تصنع ،کیا کریں، لوگوں کو بھی خوش رکھنا ہے والی ذہنیت کی وجہ سے
حتی کہ فیس بک پہ فری میں لکھتے بھی جان نکلتی ہے، کہ کوئی پڑھ لے گا تو کیا کہے گا
لیکن سیاست و مذہب کے حمام میں سب ننگے ہوتے ہیں nوجہ، بول براز میں کیا محنت کیا تخلیق۔۔
پوسٹ – 2021-07-22
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد