کری ایٹو تھنکنگ بمقابلہ جدید دورnnپوسٹ کا خلاصہnnمختصرا کہوں تو
کیمرے، لائیٹس، بہترین پروڈکشن ٹیم، اندھا دھند بجٹ، بے بہا ریسوریز
یہ سب ہوں ، لیکن کہانی نہ ہو تو یہ سب۔ کس کام کا nnتفصیل۔
ٹیکنالوجی بھی آپ سیکھ لیں گے
سافٹ ویرز بھی آپ سیکھ لیں گے
آج کل تو لامحدود کورسز ، حتی کے فری میں اتنا میٹریل موجود ہے،
اس وقت بھی لوگ ، نہیں سیکھتے nاور سیکھ لیں تو عملا زیرو ہوتے ہیں nکیوں کہ مال مفت دل بےرحم ، خصوصا پاکستانیوں کی نفسیات رعایت اور مفتے کی ہوچکی ہے
لیکن پیسے دے کر ہزاروں میں سیکھ لیتے ہیں
اور اس کو پھر فالو بھی کرتے ہیں
کیوں کہ پیسہ دیا ہوتا ہے، خیر لب لباب یہ ہے کہ
۔۔۔۔ سٹل اگرآج کوئی کچھ بھی سیکھنا چاہئیے تو سب موجود ہے
یعنی لرننگ کا عمل
مفت اور آسان ہوچکا پر اب nیہ سیکھئے کہ سوچنا کیسے ہے، آنے والا دور جو بس ، سر پہ کھڑا ہے، nاس میں، سافٹوئیرز، مشینیں، کوڈ، آٹومیشن ایک الگ ہی لیول پہ پہنچ رہی ہے nایک چھوٹی سی مثال۔
ورڈ پریس ایک ویب سائٹ بنانے والا سافٹ ویر ہے nاسے ریلیز ہوئے، تقریبا پندرہ سولہ سال ہوچکے ہیں، nیہ nویب سائٹ بنانے والوں خصوصا
فرنٹ اینڈ ڈیولپمنٹ والوں کے لیے جنت یے
یہ بنیادی طور ، بلاگنگ کے لیے آیا تھا
آج اس میں اتنی جدت آچکی ہے ، nاس میں ایسی ایسی تھیمز ایسے ایسے ڈیزائن پلگ انز، ٹیمپلٹس بن چکے ہیں، اور بنتے چلے رہے ہیں
کہ آپ کو چند کلکس پہ سب کچھ سیٹ کر کے دے دیتا ہے nبنیادی نالج ہو تو پلک جھپکتے میں، ویب کا ڈیزائن ، لے آوٹ فریم ورک، سب سیٹ کردیتاہے
لیکن یہ آپ کی تخلیقی صلاحیت، یعنی یہ سوچنے کی صلاحیت تو نہیں بڑھا سکتا کہ آپ نے اپنی سوچ سے ڈیزائن کیسے بنانا ہے، nکوئی۔ کلائنٹ آتا ہے، وہ ایک پیچیدہ لیکن خوبصورت ڈیزائن چاہتا ہے، ویسے تو پاکستانی کلائنٹس کا اپنا ڈیزائن ویژن بھی زیرو ہوتا ہے اکثر۔ بس دوسروں کو دیکھ کر خود کو تخلیقی سمجھتے ہیں nخیر، تو آپ کیا کریں گے ؟
ضروری ہے ورڈپریس پی کوئی مخصوص تھیم اس ڈئزائن سے ملتی ہوئی ہو nاور ڈیزائن تو ابھی بنانا ہے ؟فوٹو شاپ پہ ، پرچے پہ، یا رف سکیچ، ورڈپریس یا کوی بھی، ویب کا سافٹ وئر، آپ کی کیسے مدد کرسکتا ہے، ڈیزائن کو دماغ سے پےپر پہ تو آپ نے لانا ہے
اس ہے کلر ، اس کا سٹرکچر اس کی لمبائئ چواڑئی اس میں استعمال ہونے والے اجزا کا تعین اور پلان تو آپ نے کرنا ہے
خصوصا اگر کوئ منفرد سا ڈیزائن درکار ہو، nجس میں کلائنٹ کے پراڈکٹ اور اس کا پورا وژن ترتیب پا رہا
ہو ، پرچے پہ پلاننگ میں، تو صرف آپ کا دماغ ہی آپ کا پارٹنر ہے nیہ جتنے بھی سافٹویئر ہیں،
پروٹوٹائپ
ڈیزائن
کوڈنگ
اینی میشن
جن کا پورے پراجیکٹ میں رول ہوتا ہے
یہ تو مشینیں ہیں، یہ تو اسی وقت آپ کو مدد دیں گے nجب پرچے پہ آئیڈیا اترے گا
اور آئیڈیا کیسے آئے گا
چلو کچھ انسپیریشن کے لیے بھی دیکھ لیا پھر بھی، کاپی پیسٹ تو نہیں کرسکتے سو فیصد ،
خیر یہ بجٹ وغیرہ پہ بھی۔ ڈیپینڈ کرتا ہے اور وقت / ڈیڈلاین پہ بھی کہ کلائنٹ نے، کری ایٹو فری ڈم کتنی دی ہے ایسے باسز یا ایسے کلائنٹس جو creative freedom نہیں دیتے
ان کے لیے اتنا کھپنا بھی نہیں چاہئیے۔
بہرحال
اگر پرچے پہ ڈیزائن یا پلان لانا ہے تو اس کے لیے، زحمت دماغ کو ہی دینی پڑےگی ، کری ایٹو تھنکنگ پہ کام کرنا پڑے گا nاس سے بھی پہلے، سوچا کیسے جاتا ہے یہ سمجھنا پڑے گا
سیکھا کیسے جاتا ہے یہ سیکھنا پڑے گا nپھر ہی یہ ٹیکنالوجی یہ سافٹ وئیرز، سجدہ ریز ہوں گے ورنہ ، تو ایک دنیا کاپی پیسٹ کررہی یے، تم بھی کرلو nn؟
پوسٹ – 2021-07-25
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد