پوسٹ – 2016-12-22

فیس بک پر اخلاقی بکواسی جگہ جگہ یہ چورن بیچتے نظر آتے ہیں کہnn”اکثر بات کرنے کے انداز سے حقارت جھلکتی ہو ۔۔ دلیل کے ساتھ ذلیل کرنے کا اسٹائل بھی منجمد ہو تو سامنے والا بات کو سمجھ نہیں پائے گا ۔ اور آپ بجائے سمجھانے کے ذلیل کرررہے ہوتے ہیں جس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دلوں میں کدورتیں پیدا ہوجاتی ہیں “nnان سب اخلاقی نفسیاتیوں کے لیے nn” او بھائی یا تو اخلاق لے لو یا دلیل لے لو ۔۔ یا پھر _وڑا لے لو۔۔ سمجھ آئی ؟ اتنا ٹائم نہیں ہے کہ چو_یوں کو یہ قائل کرتے پھریں کہ توچو_یا تھا ۔ ہے اور رہے گا ۔۔ بات سن بے ۔۔ تمیز کے ساتھ دلیل اس کو دینی ہے جس کو سمجھنا ہو ۔ جو بات بات میں بات کاٹے اور بحث برائے بحث کرے ، پوچھنے کے بجائے الجھے ۔۔ اسے ذلیل کیا جانا ہی اولین حل ہے اور اتنا اندازہ ہوجاتا ہے کہ کون بھو_ڑی کا سوال کر رہا ہے ۔۔ اور کون وبال ۔۔ جس کو سمجھنا نہیں ہے اسے _ن پر مار کر آگے بڑھو ۔۔ کدورتیں پالتا ہے تو پالتا پھرے ۔۔ تمھارے_ن سے ۔۔ یہ چو_یاپے کر کرکے اپنی اور معاشرے کی قوت فیصلہ کی ماں _ود کر رکھدی ہے ۔۔ جو نہیں سمجھتا اور سمجھنا نہیں چاہتا ۔ یہ دو الگ کیسیز ہیں جس کو سمجھنا نہیں اس کو ایل پی سی کروا کے آگے نکلو آبادی ویسے ہی بہت بڑھ گئی ہے ۔۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.