کردار نگاری – برلن کے خصائل کی چند جھلکیاںnnلہک لہک کر، عورتوں کی طرح بات کرنا
اپنی بیماری کو ، چوری ڈکیتی کے لیے بہانے کے طور پر استعمال کرنا
آرٹ / فنون لطیفہ کے شوق کی آڑ میں، جرائم پیشہ ذہنیت کا پرچار
مائنڈ مینی پولیشن ( جو ایک حقیقی مرد کا شیوہ نہیں)nجعل ساز ، چور، ڈکیت، جرائم پیشہ ہی اس کا استعمال کرتے ہیں nڈکیتی (یعنی دوسروں کے مال پہ عیاشی ) کو آزادی کہنا۔
حتی کہ اپنے لائق فائق فیملی ممبران کو صاف ستھری زندگی چھڑوا کر، انہیں بھی انوالو کرلینا
اور مائینڈ مینی پولیشن سے ، کمسن اور کچے ذہنوں میں یہ تاثر ڈالنا کہ وہ پیدائشی چور ہیں۔nnیہ ہوئی، بنیادی کردار نگاری۔n’ اب اس کردار کی بہادری کے قصوں میں انٹرسٹ نہیں مجھے’nnاس لیے بات کرتے ہیں، پاکستانی عورتوں کے اس پہ فدا ہوئے جانے پہ nnپاکستانی عورت(سب نہیں) ناقص العقل نہیں، فارغ العقل ہوچکی ہے۔۔۔ اس کا قصور وار مرد ہے ، کہ
اب فارغ العقل کیسے ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیں۔nnیہ ایک ایسے کردار پہ مری جارہی ہیں n( سب نہیں، محض فارغ العقل عورتیں )nجس کے خصائل اوپر بیان کیے۔ nیہ کیوں مری جا رہی ہیں ؟nnگیٹ اپ ؟
شکل ؟
نہیں کیوں کہ وہ تو کوئی بھی گیٹ اپ آرٹسٹ/ میک اپ آرٹسٹ کرسکتا ہے
اواز ؟
نہیں کہ۔ کچھ مشقوں سے آواز بھاری بنائی جا سکتی ہے
اور چالیس پلس مرد اکثر بولنے کا فن جان لے تو، آواز سے جادو جگا سکتا ہے۔nnپھر کیا وجہ ہے؟ یہ فارغ العقل پاکستانی عورتیں (سب نہیں) nاس پہ پاگل ہوئی جارہی ہیں ؟
انہیں، ان کے اپنے مرد (کسی بھی روپ میں ہوں)nقوت فیصلہ سے عاری نصیب ہوئے ہیں
اور مرد قوت فیصلہ سے عاری ہو، کسی عورت کو پسند نہیں ہوتا،
ان کے باپ بھائی شوہروں میں ،(خصوصا شوہروں میں)nجعلی حاکمیت اور پھوں پھاں تو ہے
پر حقیقی الفا میل والی تحفظ / عزت دیتی ، حاکمیت نہیں ہے ۔
بس یہ وجہ ہے کہ برلن جیسے نفسیاتی مریض کرداروں کے سارے منفی خصائلn(قوت فیصلہ جسیی خوبی ) کے آگے مانند پڑ جاتے ہیں۔۔ nآخری بات، nبرلن کا کردار ادا کرنے والے، ایکٹر نے اپنے انٹرویو میں کہہ رکھا یے nn”اگر آپ کو برلن کا کردار پسند ہے، تو آپ کو ذہنی معائنے کی ضرورت ہے، کیوں کہ آپ اپنی بیٹی کے لیے ایسا داماد ہرگز نہیں چاہیں گے”nویسے وہ ،یہ بات نہ بھی کہتا تو پاکستانی عورتوں کی ذہنی حالت (سب کی نہیں) کا پتا ہی ہے کتنی جوگی ہیں یہ
اور پھر کہتا ہوں اس کا فالٹ صرف اور صرف مرد کا ہے
کہیں غیر ضروری چاو اٹھانے والے کھسرے ٹائپ بھائی، قصور وار ہیں
کہیں غیر ذمے دار باپ
اور کہیں قوت فیصلہ سے عاری بے راہ رو اور تحفظ نہ دے سکنے والے شوہرnnسو اس پر ، ہوش کے ناخن، ان افراد کو لینے چاہیے
جنہیں ٹوکیو پسند ہےnnکیوں کہ کچی عمر کے کمسن کنواروں کی تو خیر ہے۔۔ nلیکن، ٹوکیو کسی بھی مرد کی پسند نہیں ہوسکتیn(میں ظاہری خصائل پہ بات نہیں کررہا)nاب ٹوکیو کے کردار پہ بات کسی اور پوسٹ میں۔۔
پوسٹ – 2021-09-05
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد