پوسٹ – 2021-10-24

سماجی مفکرین کا ماننا ہے کہ میڈیا، خواہ وہ ،ریڈیو ہو یا پھر آج کا جدید سوشل / ڈیجٹل میڈیا، نے یہ عمومی تاثر بنا دیا یے، کہ عام انسان( عوامی طبقات) ، کمتر ذہانت (low intellact)کے حامل ہیں، یعنی میڈیا پراپگینڈا وار ، عوام الناس کی زہانت کو underestimate کرتا ہے nیا پھر اتنا زیادہ ، کر چکا ہے، کہ اب معاشرے کی “اپنی ذہانت” بارے وہی رائے بن۔ گئی ہے، جس کا تواتر سے پروپیگنڈا میڈیا کرتا رہا ہے۔۔ یعنی low intelligence
nکیونکہ میڈیا یہ تاثر دیتا نظر آتا ہے ، عوامی اکثریت، لہو و لعب، فضولیات، شغل میلے کی شوقین ہے ۔ یا پھر یہ لوگ۔ لمحاتی صرف نظر (monetarily distraction) مرغوب رکھتے ہیں۔۔ nجب کہ حقیقت میں ایسا نہیں۔۔
ذہانت خصوصا سوچنے کی اسکل (thinking skillls) یعنی سوچا کیسے جایئے کی بات کی جاہے تو معاشرہ کی تقسیم درج ذیل انداز میں کی جاسکتی ہے۔nnپہلی قسم
یہ قسم جو بہت عام ہو چکی ہے، یعنی جو سمجھتے ہیں، کہ انہیں سب کچھ پتہ ہے، nاور انہیں مزید کچھ سیکھنے سمجھنے یاn سوچنے کی اہمیت کے بارے میں بھی جاننے کی ضرورت نہیں nیہ افراد سوچنے کی اہمیت یا معلومات کی اہمیت بس اتنی سمجھتے ہیں، جتنے ان کے اپنے، کسی مخصوص نظریہ /دلیل کی جیت / دفاع کے لیے کافی ہو، nخواہ وہ نظریہ / عقیدہ کس قدر ناقص ہوn(پاکستان جیسے معاشروں کی عمومی حالت دیکھ لیں)nnدوسری قسم
بے انتہا ذہین معاشرے / افراد ،جن کی سوچ میں ٹیڑھ یا فیصلوں میں غلطی نہیں آتی تو اس کی وجہ ان کا زیادہ ذہین ہونا یے۔۔، اور وہ سمجھتے ہیں کہ زہانت کافی یے، یا ،نقص/غلطی سے پاک سوچنا ، کافی ہے۔nnتیسری قسم
جو واقعتاً خود کو نااہل سمجھتے ہیں، کیوں کہ نہ وہ اچھے طالب علم رہے اور نہ ہی ان میں کسی طرح کی پرابلم سالونگ سکل پنپ سکیں۔۔
تو انہوں نے “سوچنے کے اہمیت “کے بارے میں سوچنا ہی چھوڑ دیا کہ شاید وہ اس قابل ہی نہیں، یا یہ thinking skill ان کے لیے ہے یہ نہیں۔nnجس طرح پہلی قسم والا اطمینان، بڑھوتری (پراگریس) کا دشمن ہے، nاسی طرح تیسری قسم کی دستبرداری بھی، کیوں کہ دونوں صورتوں میں
آپ کوشش سے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.