سوچنا ایک ہنر ۔۔ کیسے ؟nnماہرین نفسیات ہوں یا سوشل سائنٹسٹ یعنی ماہر سماجیات اس بات پہ اتفاق کرچکے ہیں کہ
سوچنا ایک ہنر ہے، جو باقی صلاحتیوں/ skills، کی طرح، سیکھنے سے آتا ہے ۔
ان کا کہنا ہےکہ nآپ نے یہ تو بہت سنا ہوگا کہ ، nسوچوں کو قابو کیسے کیا جائے، nسوچوں پہ قواعد و ضوابط کیسے لگائے جائیں، nسوچنے کے عمل کو بہتر کیسے بنایا جائے
گویا، سوچنے کا جو عمل ہے، جسے ہم thinking process، کہتے ہیں، اس کی کوالٹی بہتر بنانے پہ تو بہت توجہ دی جاچکی،
کتابوں ، سیمینارز، ورک شاپ، وغیرہ وغیرہ کے زریعے اس پہ بہت بات ہو چکی۔۔ nnیہ بالکل ایسا ہی ہے کہ
اگر ہم، دماغ کو ایک کچن سمجھ لیں، گویا ، انسانی ذہن
ایک کچن ہے جہاں اشیائے خوردونوش (raw food material) کے انبار لگے ہیں، ایک باورچی ( ہم خود)وہاں داخل ہوتا ہے، اور کھانا بنانا شروع کرتا یے، وہ کھانا پکانے کا ماہر ہے اس نے، کھانے پینے کی اشیئا کو کوکنگ کے عمل سے گزار کر یعنی (process) کرکے بہت عمدہ ڈشیں بنا دیں۔۔
یہ تو ہوا باورچی کی مہارت ( تھنکنگ سکلز )اور کھانے کی پراسیسنگ (سوچوں پہ ریگولیشن)nکا تذکرہ ،nnکیا اب ضرورت اس بات کی نہی کہ ، اس پر غور کیا جائے کہ
وہ کھانے پینے کی اشیاء ، منتخب کس نے کی تھیں، nکیسے کی تھیں
ان کی افزائش ( کاشت کاری وغیرہ)، کس ماحول میں یعنی کہاں ہوئی تھی
ان کی پیکنگ کہاں اور کیسے ہوئی، انہیں کچن تک کیسے پہنچایا گیا وغیرہ وغیرہ
غرضیکہ کہ ، nاب کوکنگ کہ عمل، کوکنگ کی مہارتوں، یعنی nکھانے پکانے (پروسس) کے اوپر سے توجہ ہٹا کر، nبذات خود خوراک کی طرف کرنے کی ضرورت ہے، nیعنی اس کے اگنے سے لے کر کچن تک پہنچنے میں کیا کیا اور کون کون۔ اور کیسے کیسے عوامل شامل رہے۔۔ nمختصرا یہ کہ ہمیں ضرورت ہے، اس جز یا ان اجزاء (ingredients) کو سمجھنے کی۔ جن سے ہماری سوچیں ترتیب پاتی ہیں، اور یہ سوچوں کے یہ اجزاء کون مہیا کرتا یے۔۔۔ ہمارا ادراک، ہمارا شعور ہماری سوجھ بوجھ ہمارا احساس، یعنی perceptionnہمارا دنیا یا اپنے معاملات و اطراف اور تعلقات بارے جو بھی شعور/ احساس/ادارک/perception ہوتا ہے، ہماری سوچیں بھی ویسے ہی ترتیب پاتی ہیں۔
اور یاد رکھیں، perception آپ کی اپنی چوائس ہوتا ہے۔
وہ مثال سنی ہوگی۔۔ کہ یہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ گلاس کو آدھا خالی دیکھیں، یا آدھا بھرا ہوا۔یا بس اٹھا کر پینے کی کریں۔۔
پوسٹ – 2021-10-26
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد