پوسٹ – 2021-10-27

سوچ کے اجزائے ترکیبی nnسوچ کے اجزائے ترکیبی ، ادراک / شعور/ احساس /perception، مہیا کرتا ہے۔۔
یہ perception ہی ہے جس کی وجہ سے ہم اپنے اطراف کے معاملات، لوگ، اور زندگی کو، ٹھیک طریقے سے مینیج، یا مس ہینڈل کرتے ہیں ۔۔ زیادہ تر سوچیں / سوچوں کی اکثریت یا یوں کہیں، روز مرہ کی اکثر سوچیں، ادراک کے مرحلے میں ہی جنم لیتی ہیں، شعور سے ہی پھوٹتی ہیں، perception phase میں ہی آنکھیں کھولتی ہیں۔۔اور تکنیکی طور پر اسکے بعد ہی، ان کی کانٹ چھانٹ صفائی ستھرائی یا خرابی یعنی thinking process لاگو ہوتا ہے۔
آج کی دنیا میں، مصنوعی ذہانت، بہت سے thinking process، اپنے ذمے لے چکی ہے، کمپیوٹر سوچنے کا کام شروع کرچکے ہیں، ان کی زہانت بڑھتی چلی جارہی ہے۔۔ انسانیت کے کاندھوں پہ اب تھنکنگ پراسیس کی ذمے داری اتنی زیادہ نہیں رہی یہ کام مصنوعی ذہانت کررہی ہے، سوچوں کو پراسییس کرنے والا، لیکن، nادراک/ شعور/ perception جیسی قیمتی اور اہم چیز جو کہ سوچوں کے اجزائے ترکیبی میں سے ہے۔۔ وہ اب بھی انسان کے پاس ہے nمزید ںراں، مصنوعی زہانت، کتنی ہی ارفع ، کتنی ہی top notch ہوجایے۔۔۔ وہ پراسیسنگ تک ہی رہے گی۔۔ یعنی موجود سوچوں پہ پراسیسنگ کرنا، نتائج نکالنا آگے ںڑھنا، انہی نتائج کو محفوط رکھ کر مزید آگے بڑھنا، سمارٹ سے مزید سمارٹ ہوتے چلے جانا۔۔ لیکن وہ perception یا ادارک میں موجود فطریوں کجیوں /کمیوں/ خامیوں / یا قلتوں کا مداوا نہیں کرے گی۔۔ اس لیے بھی ، سوچوں کا یہ جز ، یعنی perception بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہوگا nnیاد رکھیں، nاکثر ایسا ہوتا ہے، کہ ہمیں لگتا یے، سوچنے کے عمل فلاں غلطی ، منطقی تھی، یعنی لاجکلی غلط سوچ تھی۔۔ جب کہ اکثر اوقات وہ غلطی منطق کے غلط ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ، ادارک میں خام، perception میں کسی غلطی کا شاخسانہ ہوتی ہے۔۔ nکہ ہم صورتحال کے محض ایک ہی حصے کا ادراک رکھتے ہوہے، سوچ رہے ہوتے ہیں
یا ہم صورتحال کو ، سیناریو کو کسی ایک مخصوص زوایہ نگاہ سے ہی دیکھ رہے(perceive) کررہے ہوتے ہیں۔۔ nnیہ سارے حقائق مصمم ہیں لیکن انسانیت اس پر مصر رہی ہے کہ nمنطق ہی، تھنکنگ پراسسیس کا اہم ترین جز ہے۔ nنتیجہ یہ نکلا کہ ہم نے ادراک/ شعور/perception کودرخور اعتناء ہی نہیں سمجھا۔۔
بلکہ اس پہ مستزاد ہم یہ سمجھتے رہے کہ
لاجک یعنی منطق کے ذریعے، perceptionکو ترتیب دیا جانا یعنی sort out کیا جانا چاہئے۔۔
یہ سوچے بغیر کہ nمنطق یعنی لاجک ایک ملفوف یا گول دائرے میں بند سسٹم کی طرح ہے، یہ اسی وقت روبہ عمل ہو سکتا ہے، یا انہیں چیزوں پی اپلایی ہو سکتا ہے جو پہلے سے وہاں موجود (پارٹ آف سیناریو) ہوں ۔ nnجب کہ ادراک، یعنی perception ، تولیدی صلاحیت (generative) ہے۔۔۔ یہ ناموجود کو ممکنات کی شکل دے سکتا ہے یعنی جو پہلے سے موجود نہ ہو، nیہ بنیادی غلط فہمی جو لاجک / منطق کی طاقت بارے تھی کہ وہ perception کو sort کرنے کا کام کرسکتی ہے۔۔ nیہ سوچ کے روایتی عمل(traditional thinking) یا سکل کا بہت بڑا فالٹ تھا۔۔ nیہ مسئلہ اس لیے بھی ہوا کہ ، یہ غلط فہمی اس لیے بھی جمی رہی کہ ، ہمیں دور اندیشی(foresight) اور پس اندیشی(hindsight) nکا فرق سمجھنے میں ناکامی ہوئی nپس اندیشی یعنی hindsight کا مطلب ہوتا ہے۔۔ معاملات و واقعات ہوجانے کے بعد، سیناریو کا حصہ نہ ہوتے ہوئے، دور سے بیٹھ کر اندازے لگانا یا قیاس آرائیاں کرنا۔۔۔ nاور دوراندیشی یعنی واقعات ہونے سے پہلے۔۔ nان دونوں پہ اور ان کا تخلیق، لاجک اور perception سے کیا تعلق ہے۔n اور یہ سب آپس میں کس قدر گتھم گتھا ہے ،۔ اس پہ مثال کے ساتھ پھر کبھی بات کریں گے۔۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.