سوچنا ایک ہنر ہے۔۔ تھنکنگ پراسیس سے پہلے کیا ضروری ہے۔۔ ؟nnجیسا کہ پہلے ںتایا گیا
بصیرت ، پس اندیشی ( hindsight) بھی ہو سکتی ہے
یعنی واقعات ہوجانے کے بعد دور سے بیٹھ کر قیاس آرائیاں کرنا، اپنی سوچوں کے گھوڑے دوڑانا ۔خصوصا جب آپ بزات خود اس معاملے کے affectee بھی نہیں۔۔
۔ کہ ایسا ہوا ہوگا، ہو سکتا ہے ایسا ہوا ہو وغیرہ، ہے تو یہ بھی ایک thinking process، رائٹ ؟nnاور بصیرت، دور اندیشی بھی ہو سکتی ہے یعنی یہ یہ یہ ہوسکتا یے، یا ایسا ایسا ایسا ہوگا، یہ یہ یہ ممکنات ہیں۔۔ یعنی کسی چیز کے وقوع ہونے سے پہلے اس پر سوچنا ، ممکنات ، امکانات، خدشات وغیرہ وغیرہ۔۔ nnلیکن، nnسوچ کے اجزائے ترکیبی مہیا کرنے والے ، اہم ترین فیکٹر یعنی nپرسیپشن (ادراک/شعور/ احساس/sense) اورسوچ کے عمل یعنی thinking process پہ مزید بات کرنے سے پہلے ، ہمیںn منطق یعنی لاجک اور تخلیق یعنی creativity کے فرق اور ان میں تعلق کو سمجھنا پڑے گا، اس کی ضرورت اس لیے ہے کہ یہی دو اہم چیزیں ہیں جن کی نسبت ںراہ راست مذکورہ بالا nnتھنکنگ پراسسیس سے ہے nکیسے ؟nnایک جملہ پڑھیں، اور سمجھیں بار بار دہرائیں اور غور کیجیے۔nn” ہر تخلیقی خیال(creative idea) ، وژن، innovative سوچ،
فیصلہ ، اپنی عملی شکل میں آنے کے بعد، hindsight یعنی پس اندیشی کے زاویہ نگاہ سے۔ مکمل منطقی ہی محسوس ہوتا یے۔۔”nnاتنا سمجھ آگیا ؟
نہیں تو آسان کرتا ہوں مزید۔nnدین۔ ہو یا دنیا، آج انسانیت جس مقام پہ ہے اس کے پیچھے اسلاف کی محنت کے۔۔ اسلاف یعنی انسانیت کے اسلاف ۔۔ nہر وہ شخص جس نے کوئی نئی بات کی ، اس کا مذاق اڑایا گیا، اسے مطعون کیا گیا ۔ جس سائنسدان نے ، کچھ ایساکیا جو کبھی نہیں ہوا تھا۔۔ تو لوگوں نے یا تو ماننے سے انکار کیا۔۔ یا کسی طرح کا مذاق اڑایا۔۔۔ nآج ان کی محنتوں سے ہم جو چیزیں استعمال کرتے ہیں، nخواہ سوئی ہو، ہوایی جہاز ہو یا کویی بھی ایسی چیز جو ہماری زندگی آسان کرتی ہو۔۔ دین ہو یا دنیا۔
ہم محض کتابوں کے ذریعے ہی جانتے ہیں کہ اس وقت ایسا ہوا تھا۔ لوگوں نے مزاق اڑایا تھا۔۔ اور ہمیں یہ۔ ںات سوچ کر حیرانی ہوتی ہے، کہ یار اتنی لاجکل چیز کا لوگ مذاق کیسے اڑا سکتے ، اس دور میں
ہم ایسا اس لیے سوچتے ہیں کیوں کہ
ہم hindsightیعنی ہوجانے کے ںعد سوچ رہے ہوتے ہیں۔
، سب چھوڑیں،
انبیاء کی زندگی پہ غور کریں پھر
سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم،
بت پرستی کے خلاف nتوحید جیسی “نئی بات” جو جاہلیت کے دور / افراد کے لیے نئی تھی۔
وقل جاء الحق وزہق الباطل nجیسی دعوت لے کر کھڑے ہوئے۔nnپھر قرآن جیسا کلام، جب پیش کیا گیا تو، شاعر ، کاہن ، ساحر کیا کیا کہا گیا ؟
آج ہم پڑھتے ہیں تو حیران ہوتے ہیں کہ یہ تو nانتہائی لاجکل بات ہے کہ، اس کائینات کا مالک ایک ہے، اس کی دی گئی ہدایات عمل۔ کرنا(قرآن) کو فالوکرنا، خصوصا اس وقت جب س کی دعوت دینے والے نبی، صلی اللہ علیہِ وسلم، جو ثبوت معجزے ، پرانے صحیفوں،قوموں کا تذکرہ کررہے ہیں، ان کو مان لینا تو انتہائی لاجکل بات ہے ۔۔ n( یہ ہے پس اندیشی یعنی hindsight میں سوچنا، یعنی ہم اس واقعے کے ، اس دور کے براہ راست effectee نہیں ہیں۔ اس لیے ہمیں،مذکورہ بالا خیال۔۔منطقی لگتا ہے، کہ یہ سب منقطی تھا، اور۔ پھر بھی لوگ نہیں مانتے تھے وغیرہ وغیرہ
لیکن ، اس دور میں جو effectee تھے، ان کے لیے یہ “نئی یعنی creative بات تھی، نہ کہ لاجکل،
اب nجیسا کہ پہلے کہا، کسی دنیاوی معاملے میں دیکھ لیں، آج بھی کوئی شخص نئی بات کرے،تو اس کو سماج (خصوصا پاکستانی سماج) مذاق کا نشانہ بناتا ہے، لیکن جب وہ وقوع پذیر ہوجاتی ہے۔۔۔ تو اس کے کافی عرصے بعد آنے والے افراد اس بات کو
پس اندیشی (hindsight) میں دیکھ کر، حیران ہوتے ہیں، کہ یار بات تو لاجکل تھی، ایسا کیا مسئلہ تھا ماننے میں، آسانی سے ہی مان لیا ہوگا معاشرے نے۔۔۔ یا ہم ایسانہ بھی سوچیں تب بھی۔ hindsight میں دماغ یا تھنکنگ۔ اس مزاحمتی امر کو محسوس نہیں کرسکتی جو ان واقعات / معاشروں کے direct effectee کرتے ہیں، جب یہ سب hindsight کے ںجاہے، foresight میں ہو رہا تھا یعنی دور اندیشی میں ۔
گیلیلیو کی مثال لے لیں۔۔ اس نے زمین گول ہے، اور نظام شمسی کا مرکز سورج ہے۔۔ تمام سیارے اس کے گرد گھومتے ہیں۔۔ دریافت کیا تھا۔۔۔ آج ہمیں، hindsightمیں یہ آئیڈیا لاجکل لگتا ہے۔۔ nاس وقت جب گیلیلیو یہ کررہا تھا، تو یہ چیز تخلیقی سوچ تھی ۔
امید یے۔۔ اب nn” ہر تخلیقی خیال(creative idea) ، وژن، innovative سوچ،
فیصلہ ، اپنی عملی شکل میں آنے کے بعد، hindsight یعنی پس اندیشی کے زاویہ نگاہ سے۔ مکمل منطقی ہی محسوس ہوتا یے۔۔”nnکا مطلب سمجھ آگیا ہوگا۔۔
اس پہ مزید بات۔۔ پھر کسی تحریر میں۔۔ nکہ اس سب تعلق تھنکنگ پراسیس خصوصا پرسیپشن یعنی ادراک وغیرہ سے کیسے ہے۔۔
پوسٹ – 2021-10-28
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد