اردشیر کاوس جی، اس متعفن پاکستانی معاشرے کے بارے میں
کہتے تھے، nقبضے کی زمین پہ، حرام کمائی سے گھر تعمیر کر کے، اس کے ماتھے پہ “ھذا من فضل ربی” لکھ دیتے ہیں۔۔ “nnآپ خود بھی نوٹ کریں۔۔ nاس معاشرے کی عمومی خصلت،n جو شخص، جتنا بڑا بےغیرت، چور، بدتہزیب، بے عمل، منافق، بددیانت، نیچ، گھٹیا، اخلاقیات سے عاری، عقل و فہم سے پیدل ، المختصر ، “پاکستانی”(اکثریت)nہوگا۔۔۔
وہ اس کی زندگی، فیس بک وال، اور زبان، دروس ، قال اللہ اللہ رسول ، اخلاقیات، مذہبی بلیک میلنگ سے اتنی ہی پر ہوگی۔۔
سوچیں اسکی وجہ خمیر کا خراب ہونا ہے ؟
یا پھر انسانی نفسیات کا فلسفہ بقا۔ survival instinctnاس طرح کے افراد کی سوچ، کچھ یوں ہوتی ہے۔۔
کہ اس سے پہلے کوئی، مجھ پر مزکورہ بالا عیوب سے پر مری شخصی بدصورتی اور ابتری سے واقف ہو کر اس کی نشاندہی کرکے، سماج میں یا کم از کم مجھے میری ہی نظروں میں ذلیل کرے۔ میں اپنے گرد ذکر و اذکار، تبلیغ، اخلاقیات، دو دو روپے کے اقوال ذریں کی ایک دفاعی فصیل کھڑی کر لوں اور دوسروں پہ تبلیغ نکالتا پھروں۔۔۔ تاکہ ان کا خیال تک نہ جائے میری گھٹیا شخصیت۔ پہ۔۔ nیہ شاید نفسیاتی دفاعی مکینزم ہوتا یے۔۔ survival instinct کی وجہ سے۔۔ nکیوں کہ پوری قوم کا خمیر متفعن ہونا، سمجھ سے بالاتر ہے یا پھر مالیوں نے کاشتکاری گندے بیج کی کی ہے تاکہ دنیا بھرمیں تریاق کے نام پہ زہر ایکسپورٹ کیں اور پیسے کمائیں
ھذا من فضل ربی
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد