کاپی رائٹنگ (Copywriting) کورس nnنویں قسط nnسرعت انگیز آغاز یعنی quick start فارمولا اور اس کی مختلف اشکال۔nnتذکرہ چل رہا ہے، کہ کاپی رائٹنگ شروع کرنے کے لیے، بتائے گئےnQuick start formula اور اس کے چار مختلف ذایقے / اشکال ( variations) کا۔nn جن میں سے آپ کوئی بھی ایک استعمال کرکے ، پروڈکٹ بارے، کاپی رائٹنگ شروع کرسکتے ہیں، nnپہلی شکلn”ہاں اور” – yes andnnدوسری شکل n”ہاں مگر” – yes but, nnان پہ بات گذشتہ اقساط میں ہو چکی nnآج سمجھیں گے اس فارمولے کی تیسری شکل یعنیnn” نہیں اور” – not and nnپہلے تو اس variation کی، نفسیاتی تاثیر/impact سمجھتے ہیں۔nn بظاہر یہn “نہیں اور” nبہت ہی، متصادم، چڑچڑا کردینے والا، جملہ ہے، nnکیوں کہ، عمومی طور، کسی کے بھی، موجودہ عقائد کے خلاف بات کرنا ویسے بھی، دماغ میں “درد کا احساس دلانے والی”کیفیت کو جگا دیتا ہے۔۔
یقین نہیں آتا ؟
فیس بک وغیرہ پہ ، کسی سے بھی اس کے کسی بھی نظریے کے خلاف بات کرکے دیکھ لیں۔
اور بات بھی کیا محض،اتنا ہی لکھ کر دیکھ لیںn” تمھاری رائے غلط ہے”nسیاسی مذہبی تو بہت ہی زیادہ حساس معاملات ہیں، آپ
اور کچھ نہ سہی، nکسی کو بھی یہ کہہ کر دیکھ لیں، کہ تم جو فلاں ٹی وی شو دیکھتے ہو، اس ٹی وی شو کی فلاں اداکارہ بہت ہی گھٹیا کردار ہے ، اسے ٹی وی شو میں ،مر ہی جانا چاہئے تھا
اچھا ہوا مر گئی، جان چھوٹی، nپھر دیکھئےگا کہ ایک افسانوی ٹی وی شو کے تخیلاتی کردار بارے عمومی رائے سے متضاد رائے دینے پہ بھی لوگ بلبلا اٹھتے ہیں۔
خواہ آپ نے کتنے ہی دلائل دیئے ہوں۔nn تو ، اسی طرح، پراڈکٹ بارے کاپی رائٹنگ کے دوران جب
یہ فارمولا اپناتے ہیں کہ نہیں یعنی پہلے سے موجود نظریات کو بکھیر دینا اور اس کے ساتھ ایک لفظ اور لگانا یعنی” اور”n نہیں اور nnکہ تم غلط تو ہو، اور اس کے ساتھ یہ ،یہ، یہ، حقائق بھی ہیں، جو تمھارے غلط ہونے کو تقویت دیتے ہیں۔nnگویا تم، آج تک جس چیز یا پراڈکٹ کوسمجھتے رہے ،وہ غلط/نقصان دہ ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ یعنی ،غلط ہونے کے ساتھ ساتھ، اس میں یہ یہ، خامیاں بھی ہیں nپھر آپ، یہ کہتے ہیں، کہ اب میں آپ کو بتاتا ہوں
حقیقت کیا ہے،n پردے کے پیچھے ،دراصل چل کیا رہا ہےnnایسی باتیں ، سنسنی ابھارتی ہیں،
اب غور کیجیے گا کہ nکتنی بار ایسا ہوتا ہے، آپ کو پتہ ہوتا ہے ،کہ فلاں ویب سائٹ، فلاں یوٹیوب کا چینل ہے، وہ سنسنی کے لیے گھٹیا خبریں، یا پھر ایسی عام سی خبروں کو ،اس طرح کے الفاظ سے مزین کرکے ان کے تھمب نیل بناتا یے،
آپ کو معلوم ہے کہ یہ چینل بد نام ہے اس کے اندر کلک بیٹنگnClick bating کے علاوہ،کچھ نہیں ہوتا ، پھر بھی کلک کر دیتے ہیں
کیا وجہ ہے؟
وجہ بس یہی ہے کہn انسانی تجسس کو ٹارگٹ کیا گیا۔۔
اس موضوع بارے ، آپ کی سوچ کو، جو پہلے سے جامد تھیn اس کو غلط کہا گیا۔
ہاں، لیکن کاپی رائٹنگ اور پروڈکٹ کی کاپی رائٹنگ میں،n ایک بات کا خیال رکھنا ہوتا ہے، کہ آپ جو متضاد حقیقت ،پیش کریں، وہ بہت مضبوط ہو ،اتنی ہی زیادہ مدلل ہولکھائی میں استحاق اور تاثیر آتی ہی سچ اور یقین سے ہے۔nnکیوںکہ ،بہرحال اپ نے صارف کے موجود اعتقاد سے انکار کیاہے، تو اب آپ کو، اس کے لیے جو نئی حقیقت بتانی پڑے گیn (اپنی پراڈکٹ بارے)nوہ اتنی ہی پرکشش، مضبوط اور دل میں، گھر کرلینے والی ہونی چاہیے nnاور یہاں ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے، کہ ہم ابھی بھی، سرعت انگیز آغاز یعنی کوئیک سٹارٹ فارمولے کی ہی بات کررہے ہیںn یہ صرف اور صرف اس کے مختلف ذائقے ہیں
جو ہم نے چھٹی قسط میں تفصیلی پڑھا تھا،۔
اسی فارمولے کا nنہیں اور, No andnوالا فلیور دیکھ رہے ہیں
سوn جب آپ نے ,اس کے نظریات، کسی اور پراڈکٹ بارے، اس کے۔ تیقن کا انکار کرہی دیا ، تو، اب آپ ،جو سچائی پیش کریں گے ،
اسے دیکھتے ہیں، اپنی nفوڈ پراڈکٹ والی مثال سے۔nnمثال کچھ یوں ہوگی nn”نہیں”nچربی والی غذائیں ، لوگوں کو موٹا نہیں کرتیں”nnاس جملے نے قاری کے دماغ میں دھماکہ کردینا ہے
ہو سکتا ہے، ابھی آپ کے زہن میں بھی یہ پڑھ کر، سوال آیاہو ۔
کہ کیا؟ کیا مطلب؟ اج تک تو سنتے پڑھتے آئے تھے کہ،fats، وزن بڑھاتے ہیں
آپ اس جملے سے قاری کی ذہنی کیفیات میں، انتشار، حیرانی، تجسس وغیرہ پیدا کرسکتے ہیں۔۔ nnیہ کیفیات آپ کو آگے پڑھنے پہ مجبور کریں گی
کیا یہ پڑھنے کے دوران آپ کو تجسس نہیں ہو رہا کہ آگے کا جملہ کیاہوگا ؟
بتائیے گا کمنٹ میں۔
دوسرا جملہ پڑھئےnn” بلکہ اگر ٹھیک اور صحت مند چربی استعمال کی جائے تو وہ آپ کے وزن کو بڑھانے کے بجائے گھٹانے کا کام کر سکتی ہےnnقاری / ناظر اپنے تجسس کی اوج ثریا (بہت زیادہ بلندی)nپہ پہنچ جائے گا۔nnاب تک تو یہ سنتے آئے تھے کہ, چربی نقصان دہ ہوتی ہے، وزن بڑھاتی ہے ،اور اب یہ بتا رہے ہیں کہ ،
چربی اچھی ہوتی ہےn اور درحقیقت آپ کا وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہےnnہاں اس میں یہ ضرور خیال رکھیں کہ آپ کے پاس حقیقت ہے ایسے اعدادوشمار، ایسی پروڈکٹ، ایسی تحقیق، ایسی چیزیں ہوں جو آپ کے دعوے کو سچ ثابت کرتے ہو کیونکہ آپ نے جھوٹی مارکیٹنگ نہیں کرنی ،آپ نے ڈرامے بازی نہیں کرنی،
پوری تحقیقات کے ساتھ ،پورے سچ کے ساتھ ،پورے یقین کے ساتھ بات کرنی ہے۔nnچیک کریںn آپ نے کیا کردیا ہے، اس کے نظریات کا یکسر انکار، کہ چربی وزن نہیں بڑھاتی “اور” اور یہ بھی بتا رہے ہیں کہ چربی، اس کے لیے صحت مند ہے بلکہ، وزن گھٹانے میں اسکا کردار ہےnnآخری بات یہ کہ، nآپ اپنا اور اس کا ذہن “اوپن” رہنے دیں، نہ کہ اسے کنٹرول کرنے کی کوشش کریں بہت سے سیلز مین یا سیلز کاپی لکھنے والے آپ کے دماغ پر حملہ کرتے رہتے ہیں , یعنی پریشر کرتے ہیں، اپنی پراڈکٹ خریدنے کے لیے۔
ان میں، استحقاق کی کمی ہوتی ہے، زبردستی مال بیچنے کی طلب ہوتی ہے، جب کہ در حقیقت ہونا یہ چاہیے کہ آپ nکاپی رائٹنگ کے ذریعے، ایک طریقے سے، اپنے صارف کو سوچنے کی دعوت دے رہے ہوتے ہیں ۔
کریٹیکل تھنکنگ سکھا رہے ہوتے ہیںn اسے یہ سمجھا رہے ہوتے ہیں کہ، تم نے جو کسی پراڈکٹ بارے حقائق و نظریات کو، اپنے دماغ میں، ایمان کا درجہ دے رکھا ہے ہے ،اس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے،
اس کو مسترد کیا جاسکتا ہے اور اس کے آلٹرنیٹ / نعم البدل میں بہتر چیز بھی مہیا کی جا سکتی ہے۔nnیہاں سے انٹری ہوتی ہے چوتھے اور آخری ذایقے یعنی variation کی
جس کا نام یے، nنہیں مگر – No Butnاس میں مختصرا یہ کہ nnآپ اپنے صارف کو، یہ سمجھا رہے ہوتے ہیں کہ تم نے فلاں فلاں پراڈکٹ، سروس، کمپنی بارے جو بھی سنا ہے ، وہ غلط بھی ہوسکتا ہے، لیکن اس میں،حقیقت کی گنجائش بہرحال موجود ہے۔n کم از کم کچھ حقائق، اس میں ٹھیک ہیں، مگر پھر بھی تمھیں ایک نئے رخ سے نئے، نظریے پہ سوچنے کی ضرورت ہے۔۔nnکاپی رائٹنگ کے، Quick سٹارٹ فارمولے کی چوتھی اور آخری variationnnیعنی n”نہیں مگر – No but”n کے بارے میں تفصیل اور مثال اگلی یعنی دسویں۔ قسط میں
پوسٹ – 2021-11-21
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد