ایک انتہائی جید استاد (علما کے استاد) سے پوچھا n’آپ کی بصیرت ، علم ، اندازا، اجتہاد، کیا کہتا ہے، اندازا دجال (بطور فرد) کب تک آئے گا
ان کا جواب تھا بہت محتاط ہو کر بھی دیکھیں تو
کم از کم بھی سو سال۔۔۔۔۔
اچھا، اور دجال بارے ساری معلومات ہمیں مل چکیں،
اساتذہ، کتاب، احادیث، ہے نا ؟
جی ، اور گوگل کے دور میں معلوماتی رسائی بھی سرعت انگیز یے(quick)،
تو یعنی، دجال سے جنگ ونگ کا ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ؟
کیوں کہ سو سال کون جی رہا ہے ادھر ؟
ہاں بظاہر تو ایسا ہی ہے۔
تو یعنی ہم سے آخرت میں، سوال جواب بھی نہیں ہونا دجال کا
جی اگر ایساہی ہوا تو ظاہر ہے، آپ دنیا میں ہی نہیں ہونگے سو سال بعد، سوال کیوں ہونا پھر۔۔۔
تو پھر یہ دجال فروش پاکستانیوں کا منہ کیوں نہیں بند کرواتے۔۔۔ یہ ںروسلی کے ، کرنے کے کام کرتے نہیں ہیں۔
دجال کی مارکٹینگ کرتے رہتے ہیں،nn اپنا آج تو صحیح کرو، آج کون سے ایسے فتنے ہیں جو فوری توجہ کے قابل ہیں
نہی عن المنکر ہی کروا کے دیکھیں ان سے۔۔۔ پتا چل جائے گا۔
مطلب ؟
غلط کو غلط کہنا، خواہ۔سامنے کوئی بھی ہو۔۔۔ nاور پھر استقامت رکھنا۔۔
ان سے یہ نہیں ہوتا، اور لڑنا انہوں نے دجال سے ہے
بہن کی ٹکی
ڈسٹریکشن کی مریض قوم
اور پتا نہیں کیوں یہ زیادہ مروڑ پاکستانیوں کو ہی ہے
شاید انہیں گھٹی زیادہ مل گئی ہے، اسلام کے قلعے والی۔۔
ان سے جھوٹ کا فتنہ نہیں سنبھلتا
ان سے حلال کو ببانگ دہل حلال نہیں کہا جاتا
غلط کو غلط نہیں کہا جاتا
اور دجال پنا کروا لو بس
پوسٹ – 2021-12-01
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد