کسی بھی گناہ کبیرہ/ حرام عمل میں مبتلا کو یہ ‘متقی’ معاشرہ جینے نہیں دیتا،جیسے یہ ںےغیرت میزان ہاتھ میں پکڑے بیٹھے ہیں، یہ جرم اور گناہ / حرام سے کراہیت کھانے کے بجائے، ایک شخص کو جرم / گناہ/ حرام کی مینی فیسٹیشن ( تمثیل) سمجھ لیتے ہیں، لیکن، اس متعفن حد تک منافق معاشرے میں ،
کوئئ بھی شخص، کسی بھی وجہ سے شراب پی کر غم غلط کرے تو برا، شرابی عیاش
زنا کرکے اپنا بریک اپ سیلیبریٹ کرے تو بدکار اور نیچnnکرپشن کرکے حرام رزق کمائے تو حرام خور(جب کہ نفرین بھیجنے والے، موسٹلی جیلس ہوتے ہیں ایسے افراد سے، انہیں حرام کمائی کا اتنا ایشو نہیں ہوتا۔
کوئی شخص کسی بھی وجہ سے خودکشی کرے یعنی حرام کاموں کی لسٹ میں ایک انتہائی شدید حرام کام(اللہ کی دی ہوئی جان میں خیانت کرنا،اور اس زندگی کو ختم کرنا)nnاس شخص کے ساتھ یہ بے غیرت معاشرہ ،
بےچارہ مجبور ہوگا، مرنے والے کو ایسے نہیں کہتا
آسان نہیں ہوتا خود کشی کرنا
جیسی بکواس کرتے ہیں۔۔
پتہ ہے کیوں؟nnموت کا خوف، (اس سو کالڈ / اسلامی معاشرے میں)nموت کو بے رحم سمجھنا
جبکہ زندگی مشکل تھی، مشکلات سے جان چھڑا کر کویی بزدل خودکشی کرے تو اس نے آسان راستہ چنا، آسان راستہ چننے والے کو یہ بے غیرتوں کا ٹولہ، رحم کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔۔۔nnہاں مرنے والے کی برائ نہ کرو، لیکن اس کے عمل کو کیوں “ایکسیوز” پروائڈ کرنا؟
تم کیا زیادہ مامے لگتے ہو کائینات ہے، nتمھارے دل میں زیادہ رحم ہے نعوذباللہ جس نے تمھیں بنایا ہے، اس کی رحمت سے زیادہ تم میں جزبات ہیں
یہ مصبیتیں مسلمانوں کو زیادہ پڑتی ہیں پھر ہنسی آتی ہے ان کے منہ پہ تھوکنے کا دل کرتا ہے جبnnیہ منافق افرادnnاللہ کی محبت بارے کوٹیشنز شئیر کرتے ہیں
پوسٹ – 2021-12-03
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد