پوسٹ – 2021-12-05

پاکستانی معاشرے میں خیر اور شر کا تناسب نکالنا بہت آسان ہے
ریاست کے پالے ہوئے خنازیر کا ہجوم ، اس بے کس پردیسی کے درپے تھا
اور ایک شخص اسے بچانے کے لیے، اس ان ذہنی مفلوجوں کی منتیں کررہا تھا۔
بس یہ ہے تناسب خیر و شر کا۔
زیادہ شر ہے، کم خیر ہے، بہت کم، بہت کم
ہجوم میں ۔۔ ایک۔۔
ایسا ہی ہوتا یے، خیر کا تناسب کم ہوتاہے، شر کا زیادہ ہوتا ہے
تو آپ، n۔پوائنٹ یہ ہےکہ ، ہم زندہ قوم ہیں کہہ کر، اسلامی قلعہ کہہ کر، اسلامی بم کہہ کر اس معاشرے
کو بے عملی کے بلبلے میں قید کرنے والے وہی ہیں
جن کا دور اقتدار اور طاقت ہر دور میں سب سے زیادہ رہی ہے
تو بس اب اتنا سمجھ لیں۔
آنکھیں کھول لیں۔
یہ اسلام کا قلعہ، امت کا سپہ سالار، واحد اسلامی (سوکالڈ) ملک جس کی رگ رگ میں سود سرایت کرچکا ہے، اسے اب کسی قسم کی اسلامی مشابہت دینا چھوڑ دیں، یہ دور جاہلیت کے عرب سے بھی گیا گزرا ہے، اور پورٹرے اس معاشرے کو، فتح مکہ کے بعد کا کیاجاتا ہے۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.