پوسٹ – 2021-12-12

پاکستانی کلائنٹ کے بارے میں ایک آفس کولیگ کے الفاظ
سوال کیا گیا n”آپ فری لانس کام میں ، باہر کی مارکیٹ کیوں پریفر کرتے ہیں ؟
جواب nپاکستانی افراد کے ساتھ کام کرنا = No Go Areanکیوں nجھوٹے ہوتے ہیں ، بجٹ کم توقعات زیادہ ، شفافیت نہی ہوتی ، اوور آل بے چینی ہوتی ہیے دماغ میں ، کام سے مطمئن نہیں ہوتے nتو آپ کے کام کی کوالٹی میں پرابلم ہے ، nنہیں ، اگر ایسا ہو تو دوسرے ممالک کے کلائنٹ شکایت کریں ، پاکستانی کلائنٹ اکثر خود وژن سے عاری ہوتا ہے ، اسلیے نہ پتا ہوتا ہے کہ کیا بنوانا چاہ رہا ہے ، نہ جاننا چاہتا ہے کہ بنانا چاہئے ، کمپنی کو ہاسپٹل سمجھ کر اور ڈیزائنر ڈیولپر کو ، ماہر نفسیات سمجھ کر ، بکواس کیے چلا جاتا ہے ، نہ لکھتا ہے ، نہ پڑھتا ہے ، نہ ہی کسی معاہدے کی پاسداری کرتا ہے ، رازق بننے کی کوشش کرتا ہے ، نہ آنکھ میں ظرف نہ دماغ میں honor کہ پیسے دے کر کام لے رہے ہو، برابری کا ماحول ہے ، تم مالک نہیں ، کام کرنے والا غلام نہیں ، نہ پیسے ٹھیک نہ عزت-nآپ سب کے بارے میں ایسی سوچ رکھتے ہیں ؟
نہیں ، پر اکثریت ایسی ہی ہے nاور اس لیے ، اصول ہے ، پاکستانی کسٹمر کا کام نہیں کرنا۔۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.