پوسٹ – 2021-12-12

گیم آف تھرونز کے کسی سیزن میں ، کراس اور کراون یعنی صلیب /مذہب ، اور ریاست کا گٹھ جوڑ بہت عمدہ طریقے سے بیان کیا گیا ہے ، nاس کا بالکل ٹھیک ٹھیک اطلاق پاکستان میں ، پالشی /درباری مولویوں اور ریاست کے شیر و شکر ہونے میں دیکھا جا سکتا ہے nکہ اگر مذہب و ریاست مل کر ، عوام کو کھوتا بنانے پر آجائیں تو بہت مشکل ہوتا ہے اس ، lethal combination سے بچنا، nمولوی فرقے سے اوپر نہیں اٹھنے دیتا ، قرآن کو سمجھںے دین کو دین سمجھ کر سمجھنے سے روکتا ہے ، بت پرستوں کی سی مخالفت کرتا ہے ، کہ بس تلاوت کیے جاو، ثواب لیے جاو، اسی چکر میں رہتا ہے کہ عام عوام قرآن کے خزانے کو پاگئی تو ان کے حلوے بند ہوجائیں گے ، nنام لے کر کہتا ہوں ، تبلیغی جماعت،فضائل اعمال ، و صدقات سے اوپر نہیں اٹھنے دے گی ، نہیں دیکھا میں نے کسی تبلیغی کو ، جو یہ کہتا ہو کہ قرآن ترجمے کےساتھ سیکھ سمجھ کر پڑھو
ہاں فضائل قرآن رٹے ہوتے ہیں nجماعت اسلامی ، والے خصوصا آج کی پود، سب نہیں پر اکثر، ہر چیز سے ڈینائے کر کے منہ چرائیں گے ، جو ان کے سوشل / سماجی معاملات کو ڈسٹرب کرتا ہے ، خواہ اس حکم کی تبلیغ قرآن کرتا ہو یا مودودی صاحب نے تاکید کی ہو
رہے دوسرے فرقے باز، تقیہ یا طارق جمیل والے ، یہ رونے دھونے ، اور بس ذکر اوذکار تک رہیں گے ۔۔
یہ بات ہم سب کو پتا ہے ، ہم مانتے بھی ہیں ، پر کیا ہے کہ جی میرا دوست ناراض ہوجائے گا ، میرا تبلیغی دوست مجھے برا بھلا کہے گا ، میرے میں سننے کی ہمت نہیں nمیرا جماعتی دوست مجھے رگڑا دے گا ، میں اس کی ناراضی نہی مول لے سکتا، nمذہبی طبقہ مجھ پر چڑھ دوڑے گا ، اور میں پریشر نہیں لے پاوں گا
یہ ہے ہماری سوچ، پتہ ہوتے ہوئے بھی خاموشی nاور نام لیوا ہیں ہم کس کے ؟ nجس نے اکیلے طائف میں پتھر کھائے nجس نے شعب ابی طالب بھگتائی nجس کے صحابہ میں عمر تھا
جو تن تنہا نکل پڑا تھا ، علی اعلان نماز پڑھنے nکس کے معاشرے میں ، جاہلیت اور کفار کے معاشرے میں nاور ہم اس سو کالڈ اسلامی معاشرے میں ان بلیک میلروں سے ڈرتے ہیں
وجہ ؟ nہم میں ، اللہ اور رسول کی محبت سے زیادہ ، سماج کی نفرت اور رشتے خراب ہونے کا ڈر ہے ۔
اور تو اور نارمل ہلکے لیول کے مولوی ، قرآن سے خوف کھاتے ہیں کہ یہ بغِر علما کے نہیں پڑھنا چاہئے یہ بھی ان کا فراڈ ہے nجب کہ قرآن کا مصنف کہتا ہے nnوَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ: nاور بیشک ہم نے قرآن کو یاد کرنے / نصیحت لینے کیلئے آسان فرمادیا۔}اnnیہ ہوا ، بڑے مذہبی طبقات کا حال nاب ریاست آپ کو قانون سے اوپر نہیں سوچنے دے گی ، خواہ ، اس کا ہر قانون اس کے دوسرے قانون سے متصادم ہو
لیکن ، نظریہ ضرورت / اور سٹریٹیجک ڈیپتھ پر ضرب نہ پڑے بس
یہ ہے ، مذہب اور ریاست کا گٹھ جوڑ
اور یہ ہے ، سوسائٹی کی ذلت جو کہ پلانڈ کر کے مسلط کی گئی ہے ، اس کی وجہ ۔
کچھ نہ کرو آپ nوقولو قولا سدیدا کا اتباع کرلو خود پر ، صرف خود پر
سب سے زیادہ ، تکلیف اسی مذہبی طبقے کو ہوگی ، یہ کبھی حفظ مراتب کی طرف بھاگے گا ، کبھی ، اخلاقیات اور حقوق العباد کی طرف
چیک کرو ٹرائی کرو، پھر بتاو
اس کی قمیت بہت زیادہ ہے ، سوشل پریشر ، بائیکاٹ ، تھو تھو بہت ہونی ہے ، لیکن قلبی سکون ، جو نازل ہوگا اس کے آگے یہ قیمت کچھ نہیں ۔۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.