پوسٹ – 2021-12-25

آپ کا کیا خیال ہے ، یہ مجالس وغیرہ میں شیعے ، بریلوی یا کافی حد تک دیوبندی بھِی بزرگان دین کی جو کہانیاں سناتے رہتے ہیں ، کسی نے اڑ کر دکھا دیا ، کسی نے گھوڑے سے پاکستان بنا لیا ، کسی نے ہاتھ لگا کر موبائل چارج کرلیا مہینوں کے لیے nمیں انہیں جھٹلا تو نہیں سکتا، کیوں کہ جھٹلانے کے لیے ، موقف کے مخالف ریسرچ کرنی ضروری ہے ، جس کا ٹائم نہیں nلیکن ، موضوع یہ نہی ، کہ یہ کہانیاں کیوں سناتے ہیں nموضوع یہ ہے کہ ، لوگ ، یقین کیسے کرتے ہیں ، یا کیوں کہیں ، کہ لوگ دلچسپی سے کیسے سنتے ہیں ، اس میں کمال ، کہانیاں سنانے والے کا بعد میں ہے ، انسانی نفسیات اور ذہن کا پہلے ہے
تخلیقی رائٹنگ ورک شاپ میں ایک چیز سکھائی جاتی ہے nدنیا کا ہر انسان “by birth story teller ” ہے ، اور دنیا کا ہر انسان ، کسی کو سننے پر آمادہ ہوتا ہی “story telling” کی وجہ سے ،
بس اتنی سی بات ہے ، کہ ہر طرح کے فرقے کی کہانیاں سننے میں لوگ ، مدہوش ہوجاتے ہیں ، اور مسلسل سن سن کر ، اس پر یقین بلکہ ایمان کی حد تک اتر آتے ہیں ، اور پھر آخر کار اتنے پکے ہوجاتے ہیں ، کہ اس کے مخالف سننے پر مار دھاڑ شروع ہوجاتی ہے ۔۔
اچھا، تو پھر اس کا حل کیا ہے nآف کورس — مطالعہ قرآن ، اس میں بیان کردہ قصے ، اس کو کم از کم اتنے یقین کےساتھ پڑھیں جتنا اپنے اکابرین کے قصوں کو شوق سے سنتے ہیں nایمان / ہدایت اور نیک نیتی کے ساتھ ، دیکھیں پھر قرآن سے زیادہ دلچسپ ، کچھ لگے تو کہیے گا ، ہاں یہ الگ بات ہے کہ ، انسانی ذہن “آسان فیصلوں/چوائسز/” کے لیے پروگرامڈ ہے ، یعنی خود پڑھنا مشکل لگے گا ، تو وہ دوسرے کو سن کر ، زیادہ آسان سمجھے گا – تو پھر سنئیے ڈاکٹر اسرار احمد ، ڈاکٹر غلام مرتضی ، یا کسی بھی جدید ، نوجوان اسکالر نعمان علی خان وغیرہ کا بیان کردہ قرآنی فہم — nیہ بھِ کریں تو بہتر ہوگا خود بھی مشقت کرکے پڑیں
سٹوری ٹیلنگ – خدا سے زیادہ کسی کی اچھی ہو سکتی ہے ، جس میں دلچسپی بھی ہے ، ثواب بھی ہے ، فہم بھی ہے سوچ کے دریچے بھی وا ہوتے ہیں ، دنیا کی حقیقت خود نظر آتی ہے ، nاور کیا چاہئے ، ہی سب محض ایک کتاب کے مطالعے سے nاب کوئی مولوی “محض” کو پکڑ کر رونا شروع کردے ، محض یعنی کوانٹٹی میں تو ایک ہی کتاب ہے نا ، کجا یہ کہ ، آپ لائبریاں کھنگال لیں ، آپ کو وہ سب نہیں ملے گا جو قرآن میں پوشیدہ ہے nڈاکٹر اسرار کے بقول nقرآن ایک ایسا بحر ہے ، جس کا نہ کوئی کنارہ ہے ، نہ کوئِ گہرائی یعنی لامحدود ہے — nاور ہر بار اس میں ڈوبنے پر ، ایک نئی سوچ نیا تدبر عطا ہوتا ہے nآپ قرآن کو ثواب کے بجائے مطالعے اور سمجھنے اور ، ہدایت کی نیت سے پڑھیں ، اور کمالات دیکھیں ، انسانی نفسیات کیسے کھلتی ہے ۔۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.