اچھا آج کل ایک نیا فیشن چل رہا ہے،
صنفی تفریق سے قطع نظر، گھریلو معاملات یا تعلقات میں ہونے والی چپقلش در چپقلش ، مخدوش سے مخدوش تر ہوتے تعلقات کا ملبہ ایک دوسرے کے منہ پہ کیچڑ کی طرح ملتے فریقین، یہ والا جملہ ضرور ادا کرتے ہیںn” تمھارے ساتھ نے محض نفسیاتی مرض سے نوازا ہے اور تمھارے وجود/گفتگو/زبان کی وجہ سے ان میں مزید اضافہ ہو رہا یے۔
اچھا اب اس گھناونے الزام سے بچنے کے دو طریقے ہیں
پہلا طریقہ
اپنا مکمل تجزیہ کجیے، مکمل منطقی اور مارجن بھرے انداز میں، اور صورتحال کو سامنے رکھتے ہویے، فریق کو لاجک کے کوڑے انتہائی نرمی سے ماریں کہ ایموشنل بلیک میلنگ بند کرو، یہ امراض پہلے سے پنپ رہے ہوں گے، اور چونکہ نبھاسکنے کی تمیز نہیں اس لیے مرض بگڑ کر نارسسزم بن گیا یے ، اور اب گیس لائٹنگ کرکے، مظلوم اور شکار کو
ظالم اور شکاری قرار دے رہا ہے
یہ طریقہ انتہائی مشکل اور بہت سی ذہنی مشقت کا متقاضی ہے، جس کی وجہ سے آپ تو ٹھنڈے ہوگے لیکن، یہ مسائل بھی ہوں گےn وقت کا ضیاع، کام پہ فوکس ختم، پورا دن ہر طرح کی افادیت سے خالی، کسی طرح کی مثبت پراگریس نہیں
اور پھر بھی چانس یہ ہے کہ اگلی بار کی چپقلش میں دوسرا شخص پھر سے وہی بات کہے گا
کہ تم مینٹل ٹارچر کا باعث ہو (خواہ کتنا میٹھا مظلوم یا آنسو نکال کر کہے)nnاب بات کرتے ہیں دوسرے طریقہ پہ
دوسرا طریقہ مکمل طور پر دوسرے کو ناموجود کرنا اور تعلقات کو وینڑی لیٹر پہ ڈال کر، اپنی زندگی شخصیت اور بہتری پی فوکس کیوں کہ ظاہر ہے، آپ کو اپنا ذہنی سکون پیارا ہے تو ایسے زہر آلود کو اس کے حال پہ چھوڑ دیں۔۔
پوسٹ – 2021-12-27
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد