یہ آجکل کے لونڈے کم وقت میں زیادہ سگریٹ پی کر اپنے آپ کو کری ایٹو تھنکر اور فلاسفر اور پتا نہیں کیا کیا سمجھ بیٹھتےہیں ۔۔ nابے جس تخلیق کو وجود میں آنے کے لیے نکوٹین کی ضرورت ہو وہ کیا تخلیق ہوئی ؟ سگریٹ پیو ۔۔ ضرور پیو ، چائے بھی پیو ، کافی بھی ۔۔ پان بھی کھاو۔۔ پر یہ ناٹک نہیں کرو کہ میں سوچتا ہوں اس لیے سگریٹ پیتا ہوں ۔ یعنی تم سے سگریٹ لے لی جائے تو تمھارے سوچ کے سوتے اور تمھارے فوتے دونوں خشک اور تم کسی قابل نہیں ۔۔ تو تم تخلیقی نہیں بلکہ چرسی اور نشئی ذہنیت کے مالک ہو ۔۔ مطلب خود سوچو یار ۔۔۔ لعنت نہیں ہے تمھارے اس تھاٹ پراسس پر جو سگریٹ کے بغیر کام نہ کرے ؟n ہاں جب سوچ کا عمل شروع ہو، جب تخلیق آپوں آپ جنم لینا شروع کرے تو اس عمل کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے سگریٹ پی لو کوئی مسئلہ نہیں ۔۔ لیکن ۔۔ یہ دنیا کو ایل پی سی اوہ سوری جوتے کی نوک پر رکھ کے ۔۔ ٹیڑھے منہ سے سگریٹ سلگانا اور اپنے آپ کو اسٹائلش سمجھنا اور یہ سوچنا کہ میں بہت کام کرتا ہوں، میں بہت سوچتا ہوں میں ٹربل شوٹر ہوں میں اس لیے سگریٹ پیوں گا ۔۔ یہ سوچ بچکانہ بھی ہے زنانہ بھی ۔۔ایک بات کو سمجھ لو اگر تخلیق کسی بیرونی کیمکل کی محتاج ہوتی تو بارش میں الکوحول برستا ۔ آکسیجن میں قدرتی طور پر نکوٹین کی مہک ہوتی ، اورمٹی کی خوشبو چائے جیسی ہوتی ۔۔ نہیں ہے نا ایسا ؟ تو اس کا مطلب ہے تم غیر فطری اور اور جو غیر فطری ہے اور اس کو پتاہے پھر بھی وہ اسٹائل کے چکر میں ڈھیٹ ہےتو وہ غیر فطری ہونے کے ساتھ ساتھ چے بھی ہے ۔۔ nسگریٹ پی کر تم دنیا نہیں بدل سکتے ۔۔ سگریٹ پیو لیکن جتاو مت کہ سگریٹ اس لیے پیتے ہو کہ تمھارے دماغ پر کام کا پریشر ہوتا ہے ۔۔ اس لیے پیو کہ بس پینی ہے ۔۔ اس میں کوئی مسئلہ نہیں۔

اترك رد