پوسٹ – 2022-01-22

پیاس۔nnوہ آدھی عمر ، گزار چکا تھا اور باقی گزار رہا تھا ، بلکہ گزار نہیں رہا تھا ۔ جی رہا تھا۔۔لیکن اب تک کی کل کمائی میں ، غرور ، فخر،پشیمانی اور کامیابی کے چند دانے تھے ، اطمینان بھی تھا کہ خون کی نالیوں میں رزق بھی حلال ہی ہے او ر رہے گا ۔ جب جب جو جو حرام کھایا تو صدقے ، بیماری یا پریشانی کی چکی میں پس کر ندامت کے آنسو کا روپ دھار گیا تھا ، مجموعی طور پر وہ ایک مکمل انسان تھا ۔۔ گناہ میں لتھڑا ہوا ، لیکن توبہ سےغسل کرنے پر ہر دم سبقت کرنے والا۔۔ نیکیوں کا ایک پلندہ لیکن اس قدر خفیہ کہ دنیا کافر کافر کہتی رہی تو وہ ۔ سر ہلا کر مسکراتا رہا۔دعا کرنے کےلیے ہاتھ اٹھانےکے بجائے آسمان کی طرف منہ اٹھا کے مجذوبوں کی طرح سچے بادشاہ سےمخاطب ہوا کرتا۔۔۔ اس سے لڑتا ، ضد کرتا مچلتا۔۔ اور بات منوا لیتا۔۔ سجدے میں کبھی کبھار آنسو بھی ٹپکا لیتا۔ جمعے کے جمعے خوشبو لگا کے نماز بھی پڑھ لیتا۔۔ ساری عمر فرض اور بنیادی عبادات چھوڑنے کا گلٹ اب ا س کا گلا پکڑ رہا تھا۔ ڈاڑھی کے ایک دو بال سفید تھے ، یعنی بیک وقت جوانی کے عروج اور زوال کے بیچ کی لکیر پر کھڑا تھا۔۔ پیچھے دیکھتا تو عزم جوان نظر آتا، آگے نظر پڑتی تو باقی ماندہ عمر ,ختم ہوجانے والی جوانی ، اور باقی رہ جانے والی ذات ہی دکھائی دیتی ، مجموعی طور پر پرفیکٹ human material ، توبہ کی نیت سے گناہ کرنے والا۔۔ گناہ کرنے سے ایک لمحہ پہلے اللہ کو یہ کہہ کر پیار سے چیلنج کرتا۔n”دیکھ میں جانتا ہوں، میں مانتا ہوں کہ تو ہی روک سکتا ے ، تو ہی ٹوک سکتا ہے ، تو ہی گناہ سے بچا سکتا ہے ۔۔ پیار کرتا ہے نا مجھ سے ؟تو روک لے مجھے ورنہ میں ناراض ہوجاوں گا۔۔ اللہ کو ناراضی کی دھمکیاں دیے والا۔۔ کہ اس نے قدرت رکھنے کے باوجود اگر نہیں روکا تو پھر وہ بھی اللہ سے یہ شکوہ کرے گا مجھے آگ میں نہیں ڈالنا۔۔ میں نے تو کہا تھا آپ سے کہ روک لو، دل میں رہتے ہو نا۔۔ شہ رگ میں بستے ہو نا۔۔ تو مے خانے سے مصلے تک اٹھا کے لانے میں قباحت کیا تھی ، ستر ماوں جتنا پیار کرتے ہو ، بے شک کرتے ہو۔۔ اب گناہ سے روکہ لو۔۔ورنہ توبہ تو میں نے کر ہی لینی ہے ۔۔ معاف کرنے کی نوبت آنے ہی کیوں دیتے ہو ؟ ڈائریکٹ گنا ہ سے روک لو۔۔ اور اللہ اس کے آسرے کی آس ، لاج توڑے بغیر اس کو پیار سے تھپکی دیتا ، ہلکا سا کان مڑوڑتا، اور بدکاری کے راستے پر جاتے قدم اسے جائے نماز پر کھڑا کر دیتے ۔۔۔ اگر ہلکا پھلکا کر بھی لیتا تو قدرت وارننگ بھیج دیا کرتی ، کبھی کوئی بے ضرر حادثہ، کبھی کسی قسم کا دکھ بیماری ، یعنی حساب دونوں دوستوں کے بیچ میں برابر تھا ۔۔ چونکہ حساب برابر رہتا، اس لیے قدرت کا کرم بے حساب رہتا تھا۔۔ اب باقی ماندہ عمر میں اس کو یہ کھوج کرنی تھی کہ اس کے اندر بنیادی عبادت سے کوتاہی کا جو گلٹ ہے جو پشیمانی ہے ۔۔ وہ تشنگی میں کیسے بدلے گی ۔۔ ایسا کیا کرے کہ مثال کے طور پر اگر نماز چھوٹنے کے بعد گلٹ ہونے کے بجائے ۔۔ اس کو اذان کی آواز سے صرف پیاس ہی لگ جائے ، نماز کی پیاس ۔ اس نے اتنا کیا کہ اپنے غلیظ نفس کو کم از کم اس بات پر راضی کر لیا تھا کہ دیکھ تیری گندی انا تیری اکھڑ قسم کی اکڑ اگر تجھے اللہ کے سامنے ہاتھ اٹھانے اور منہ کھولنے سے روکتی ہے تو کم از کم اتنا تو کر کہ اللہ سے طلب کی چاہ نہ کر کے اپنے اوپر ظلم کرنے کے بجائے صرف یہ مانگ لیا کر کہ اللہ مجھے اگلی نماز پڑھنے کی توفیق اور قبولیت بخش دے ، کم از کم گلٹ سے پیاس کا سفر تو طے ہوگا۔۔ایسا بھی کر کے دیکھا نتیجہ ڈھاک کے وہی تین پات۔۔ وہ پیاس وہ تشنگی پیدا نہیں ہو رہی تھی ا ب اس نے یہ دعا شروع کردی کہ یا اللہ اذان اوراقامت کے دوران میرے سر میں ایسا درد طاری کردے جو تکبیر اولی کے لیے ہاتھ اٹھانے کے بعد ہی ختم اور اگلی نماز کی اذان کے فورا بعد پھر شروع ہوجائے بس اب اس نے فیصلہ کر لیا تھا ۔ زبردستی ہی سہی وہ عبادت نہ کرنے کے گلٹ عبادت کی چاہ اور پیاس میں تبدیل کر کے رہے گا۔۔
اللہ تعالی مسکرا رہا تھا۔۔ اس نے پیار کی تھپکی دی اور ہامی بھرلی ۔۔ اب اسے اگلی اذان کا انتظار تھا۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.