پوسٹ – 2022-02-06

اکثر اوقات، مثبت تنقید ہی، خود کو بہتر کرنے کا آخری اور باکمال ذریعہ ہوتا یے ۔ کیوں کہ، اس کی وجہ سے ہم، اپنی شخصی کجیوں/خامیوں کو جان سکتے ہیں۔
جب ہم اس کے جواب میں،دفاعی انداز اختیار کرتے ہیں تو ، یہ خطرہ بہرحال لاحق ہوتا ہے کہ ہم شاید اپنی شخصیت کے اس پہلو /کمزوری سے لاعلم۔رہ جائیں گے، جو اس تنقید کے نیتجے میں ہمیں سمجھ آنے والا تھا۔
کسی کی ذات پر رائے دینا، آسان نہیں، اور اس سے بھی مشکل ہے، اسے سننا۔
پر یہ واقعی مددگار ثابت ہوتاہے ، اور ہوتا رہے گا۔nnاس کا سامنا کیسےکریں ؟
سب سے پہلے تو، خود کو کسی بھی طرح کے ردعمل سے روکئے۔
مکمل طور پر ساکت ہوجائے، اور دماغ کو لاک کرلیجیے۔ اضطرار پہ قابو پایئے۔
شروع کے چند سیکنڈ ہی بہت ہوتے ہیں، اس انفارمیشن کو پروسیس ہونے دیجئے۔nnتاثرات سپاٹ کر لیجئے یا جیسے تھے ان پر ہی رک جائے۔
خود کو یاد دلائیے کہ آپ کو ٹھنڈا رہنا ہے۔nnدماغ میں ان فوائد کو نام لے لے کر دہرانا شروع کیجیے، جو مثبت تنقید سے حاصل ہوتے ہیں
مثلا۔nnصلاحتیوں میں بہتری
پیداواری صلاحتیوں میں اضافہ
تعلقات میں خوشگواری۔
یہ سب مل کر آپ کو ایک۔خوب صورت شخصیت بنا دیں گے۔
اس دہرائی کے ساتھ ساتھ، ہر اس ری ایکشن، یا ایکشن کو ، جھٹکتے رہیں، جو فیڈ بیک، دینے والے شخص کے لیے آپ میں ابھر رہا ہو۔
حتی کہ ان لوگوں کے لیے بھی، جن کی آپ کی نظروں میں خاص وقعت یا عزت نہی ، اگر ان کا ردعمل بھی مثبت , ہے تب بھی یہ کڑوا گھونٹ پیتےرہیں اور ردعمل روکتے رہیں۔nnسمجھنے/ جذب کرنے کے کیےسنئے۔
جیسے ہی آپ پر مثبت اور تعمیری تنقید کا آغاز ہو،
ہمہ تن گوش ہوجائے، اس شخص کو، بات مکمل کرنےکے دیجیئے
جب وہ بات پوری کرے
تو اس کی بات کو ، دہرا کر اس سے کنفرم۔کیجیے۔nnکوشش کیجیے، کہ اس کے تبصرے پر سوال نہ اٹھائیں،اور نہ ہی تبصرے کا تجزیہ کیجیے، صرف سنئے،اور اس کے زاویہ نگاہ پہ غور کیجئے

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.