پوسٹ – 2016-11-08

ڈی جے والے بابو، بے بی کو بیس پسند ہے nnیہ بات سمجھ لیں مایوسی نہیں ہے لیکن کیا کریں بات یہ ہے کہ اس ملک کے ساتھ جتنا بلاتکار خود ہم نے کیا ہے ۔۔ بشمول میرے ۔۔ اتنا کسی نے نہیں کیا۔۔ ہم روٹی کو چوچی نہیں چوچی کو چوچی ہی کہتے ہیں ۔ نہیں مجھے کہنے دیں ۔۔ خیر آپ روک بھی لیں تو نہیں رکنا۔۔ بات سیدھی ہے ۔ کہ یہ جتنا بھی ہجوم ہے جسے ہم امت مسلمہ کہتے نہیں تھکتے ۔۔ ہم نے ان کے ہاتھوں جھنڈے (سیاسی)اور مقعد میں ڈنڈے (منشور)دینے کے علاوہ کیا کیا ہے آخر ؟ کسی کو مسلمان ہونا ہے تو اس کے لیے الگ دکان ، کوئی زبان کا حق چاہتا ہے تو لسانی سبیل کا پانی ۔ کسی کو جنت چاہئے تو وہ فلاں کلر کا استعمال کرلے ۔۔ صبغتہ اللہ کا کلر بھی ہم نے ۔۔ کالا اور ہرا کرلیا۔۔ جو جتنا پڑھا لکھا ہوا اتنا ہی نولکھا ہوا ۔۔ اس کی تقدیس اور تسبیح میں ہم نے تدبیر کو سائیڈ پر کردیا۔۔ اور روتے رہے تقدیر کو۔۔ مولویوں نے اقبال کی سیکی ۔۔ لبرلوں نے مولویوں کی ۔۔ اور بندقوں نے لبرلوں کی ۔۔ اور پھر بندوق کی نال میں انگوٹھا دیا نظریے نے ۔۔ چکر چلتا رہا دنیا آگے بڑھتی رہی اور ہم کولہو کے بیل ۔ ہمیں روٹیٹ اور ریولوو میں فرق نہیں نا پتا چل سکا۔ ہم کہتے ہیں کہ اقبال کو بچے بھول گئے ۔۔ لول ۔۔ یار ہم لوگوں کو بال جبریل کی شان نزول خود نہیں پتہ اور شکوہ کرتے ہیں کہ بچوں کو اقبال نہیں پتا۔۔ منٹو ہمارا بے غیرت تھا اور اقبال ہمارا کافر۔ اورہم ۔۔ ہم تو جی اپنے حضرت صاحب کی خاک پا بھی نہیں۔۔ یعنی کچھ بھی نہیں ۔۔ بعد میں حضرت صاحب لبرلز کے ساتھ مصروف ہوگئے ۔۔ اور ہم لگے بچوں کو کوسنے ۔۔ ارے ہم میں سے کس نے اپنی نسلوں کو چھوٹا بھیم اور کس نے نہیں کوئی چیز بیکار قدرت کے کارخانے ۔۔ پڑھایا۔۔ خیر کیا لکھوں ۔۔ ایسی کون سی بات ہے ۔۔ جو ہم سب کو نہیں پتا ۔۔ خیر سوری غلطی ہوگی ۔۔ او ڈی جے والے بابو۔۔ میرا گانا چلادے ۔۔ کیونکہ بے بی کو بیس پسند ہے ۔۔ اقبال گیا تیل لینے ۔۔ اور ہم چٹائی ۔۔ nnتھے تو آبا وہ تمھارے ہی، مگر تم کیا ہو؟n!ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.