“لوگ کیا کہیں گے”n کا بہترین علاج nکسی بھی بات/عمل کو کرتے وقت اگر یہ خیال ستا رہا ہو تو، خود سے صرف اتنا پوچھیں nکیا یہ عمل ، اجتماعی نقصان/ انفرادی گناہ کا سبب ہے ؟
اجتماعی نقصان سے ہرگز ہرگز مطلب یہ نہیں کہ nمنافق رشتے داروں/حلقہ احباب کو خوش رکھنے کا سوچا جائے ، یا دل رکھنے کی خاطر ، خود کے فیصلوں پہ نظر ثانی کی جائے nوجہ ؟
یہ معاشرہ تو، جنازے پر بھی سالن کے ذایقے ڈسکس کرتا نظر آتا ہے nتو ؟ why bother ؟n اسلیے ، کوئی بھی فیصلہ ، nخواہ اس کا تعلق ، پڑھائِی ، کیریر ، تعلقات ، بزنس کے حوالے سے ہو – nاس کو لیتے وقت اگرn”لوگ کیا کہیں گے ” کا شیطان آپ پہ حملہ آور ہو تو اس کا علاج ،خود سے یہ پوچھںا ہے nکیا یہ عمل ، اجتماعی نقصان/ انفرادی گناہ کا سبب ہے ؟
اور کوئ شخص، حقوق العباد، ایثار ، قربانی ، جیسی پٹیاں پڑھائے ، nتو نوٹ کیجئے ، اگر پاکستانی ہے ، اور وال / واٹس ایپ وغیرہ ایسے ، بے عمل میسجز سے بھرا ہے ، تو سگا رشتے دار ہی کیوں نہ ہو ، nزندگی سے خارج کردیں –فیس بکی بھی ، اور حقیقی بھی ، nاور جو قطع تعلقی پر وعیدیں سنائے ، اسے بھی ، اول الذکر کے پیچھے روانہ کردیں ۔
پوسٹ – 2022-03-06
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد