پوسٹ – 2022-04-01

جب اجتماعی طور پر ، عمران خان کی تشریف پر پیاز کترا جا رہا ہو تو ، مذہبی یوتھئیے یہ قول پیش کرتے ہیں nn “جب تیروں کا رخ ایک ہی طرف دیکھو تو سمجھ جاو وہ شخص حق پہ ہے “n کے لیے کہا جاتا ہے
مسلمان جب اکثریت میں تھے ، جگہ جگہ فتوحات کرتے تھے ، nاس وقت کفار کمزور تھے ، nاور کم بھی تھے ، کیوں کہ ، بہت سے لوگ اسلام لاچکے تھے اور اسلام عام ہو چکا تھا
تو اس وقت ، جس طرف اکثریت یعنی مسلمانوں کے تیروں کا رخ ، اقلیت کی طرف یعنی کفار کی طرف تھا
تو ، اس وقت پھر ، حق پر کون ہوگا nnچلو ، خیر ، اس کذاب کا قرون اولی کے ادوار سے کیا مقابلہ کرنا
ان کو انہی کی ذہنی اوقات کے مطابق مثال دیتے ہیںnnاگر تو فارمولا یہ ہے کہ ، جس شخص کی طرف اکثریت کے تیر یا دشنام طرازی ہوں گے ، nnوہ شخص ہی حق پر ہوگاnnتو پھر ، آج تک ، پاکستان میں ، جتنی بھی پارٹیوں کی حکومتیں سے اقتدار میں آئی ہیں nاور ، پھر کچھ عرصے بعد، اپوزیش کی ” بھاری اکثریت ان کے خلاف ہوگئی ہے nnتو اس کا مطلب ، وہ حکومتیں حق تھیں ؟nnلول

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.