پوسٹ – 2022-05-16

گورکھ دھندا کی شاعری کو سمجھنے کے لیے nآپ کو صرف اللہ کے نام “الصمد” پر غور کرنے کی ضرورت ہے — nالصمد یعنی بے نیاز
سوچتے جائیں — شاعری غیر مقفل ہوتی جائے گی ۔۔۔
دماغ کے اندرکرنٹ لگنا شروع ہوجائے گا۔
ہمت ہے تو کوشش کریں ۔
اپنے رسک پر– یہ انسانی عقل کے آگے کی بارڈر لائن ہے — جہاں nدماغ ہتھیار ڈال دیتا ہے — پھر بس اسی کا سہارا ہے ۔۔ وہ لے کے چلے آگے تو ٹھیک ورنہ انجام کسی مزار کے کونے کھدرے میں ہونا ہے nجستجو لے کہ تمھاری جو چلے قیس کوئی nاس کو مجنوں کسی لیلی کا بنا دیتے ہوں nسوہنی گر تم کو مہینوال تصور کرلے nاس کو بپھری ہوئی لہروں میں بہادیتے ہو

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.