عامر لیاقت کی جواں سال موت، دنیا کی بے ثباتی کا ایک اور نمونہ ہے ، nموت تو ماں کے پیٹ میں بھی آسکتی ہے ، اور بندہ سو سال بھی جی سکتا ہے ، اس لیے ،n زندگی موت کی بات کو ، nجوان عمری میں موت کی بات کو
قبر میں اس کا کیا معاملہ ہوگا، nآخرت میں اس کا کیا معاملہ ہوگا
یہ سب ایک طرف
رکھتے ہوئے ، اس پر غور کریں کہ nدنیا میں کس طرح یاد کیا جائے گا ؟
جس کے پاس ، الفاظ کا خزانہ ، nبولنے کا ڈھنگ، nشہرت
پیسہ nاختیار
عورتیں ،
رہی ہوں nاس نے اپنی تقریبا پچاس سالہ زندگی ، کن کاموں میں لگا دی nاتنا سب کچھ ہونے کے باوجود ، کس حد تک شخصی بہتری پر کام کیا
کیا یہ پوری زندگی خصوصا جوانی ، پروڈکٹو گزری nیا پوری عمر، محض conterversies کے تھپیڑوں سے ہچکولے کھاتے نکل گئی ؟
موت تو ہر کسی کو ، اگلے پل بھی آسکتی ہے nاس لیے ، اس پر اختیار نہیں ، لیکن
شخصی بہتری اور productivity پہ آج اور ابھی بھی اختیار ہے nاپلائی کریں ، تاکہ کوئی آپ کے انتقال پر what a waste نہ کہے ۔۔
پوسٹ – 2022-06-09
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد