پوسٹ – 2022-06-12

یہ اس کے ہاتھوں سے میری پہلی بالمشافہ ملاقات تھی
اس کے تبصرہ کرتے ہاتھ اور ان ہاتھوں میں نصب صاف ستھری چمکیلی مخروطی انگلیاں
مجھے معلوم تھا کہ وہ دستیاب نہیں
میں چاہتا بھی نہیں تھا کہ وہ دستیاب ہو کیونکہ باتوں سے ہاتھوں سے، انگلیوں سے، تبصروں سے ،پروفیشن، سے وہ بہرحال ایک میچور خاتون تھی، صرف ہاتھوں کی ساخت اور ان کی تازگی سے کم سن ۔۔n جیسا کہ اس نے بعد میں بتایا بھی کہ اس کا۔پیشہ تدریس ہے اور تدریس سے زیادہ تقدیس کسی میں نہیں لیکن اس کے ہاتھ میں تھی جو ہاتھ اس کی ڈی پی پر لگے مجھے اس سے بات کرنے پر اکساتے ریے nمیں اس کی طرف بڑھتا تو مجھے پیچھے کرتی
وہ مجھے پیچھے کرتی تو میں مزید پیچھے ہوجاتا nخیر ایک وقت ایسا آیا کہ بات کرتے کرتے میں نے اپنے اندر کے مرد کو یہ سمجھایا چل ،بھاگتی حور کی ہتھیلی سہی، پتہ ہے نا کہ۔لفاظی ہے، کیوں کہ نہ دیکھا ہے، نہ جانتا ہوں۔۔
یہ کہہ کر میں نے اس پر اپنا آخری حربہ آزمایا الفاظ جو کہ شاید مجھے آج تک صحیح سے آزمانا نہیں آیا
میں سمجھتا تھا تھا کہ الفاظ وہ جال ہیں جو کسی بھی خوبصورت ہاتھوں والی یا خوبصورت دل والی عورت کو مائل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہیں
پر بدقسمتی یہ تھی کہ الفاظ کی بہتات ہونے کے باوجود میرے اندر احساسات کا قحط برپا تھا ،ہے اور رہے گا
جب جب اس کے ہاتھوں کی تصویر کو دیکھتا تب تک اس سے بات کرنے کو دل ہمکتا کچھ تحاریر پر وہ خود اپنی مخروطی خوبصورت چمکیلی عمیچور اور اور دلچسپ انگلیوں سے تبصرہ ٹائپ کیا کرتی
اور آج بھی ایسا ہوتا ہے ہے آج میں نے تھوڑا آگے بڑھ کراس کے کی بورڈ جو توقف بخشا اور کہا کہ سنو، میں کچھ ٹائپ کرتا ہوں آج۔
پرآخرکار نتیجہ وہی ہوا کہ میں الفاظ کو دامن میں بھرے انہیں بارہا لٹاںے کے باوجود اس کے خزانے میں کمی نہیں پا رہا nیپر کیا کروں کہ مجھے الفاظ کا ہنر بھی آزمانا نہیں آرہا

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.