تین کروڑ پاکستانی آپ کی بات کیوں مانیں ؟ n———————————-nnفیس بک آڈئینس ان سائٹ ٹول کے مطابق فیس بک پر پاکستانی یوزر کی تعداد پچیس سے تیس ملین ہیں یعنی تقریبا تین کروڑ فیس بکی صارفین پاکستانی ہیں ۔۔جس میں پچاس سے ساٹھ لاکھ خواتین اور باقی باقی دو ڈھائی کروڑ مرد حضرات ہیں ۔۔
ان میں سے ہر کوئی ایسا ہے جو کسی نہ کسی سیاسی/مذہبی تنظیم کی طرف رجحان رکھتا ہے ۔ کھلا، ڈھکا چھپا، سپورٹ کی حد تک ووٹ کی حد تک ، ہمدردی کی حد تک ۔ آخری آپشن کے طور پر ، ذریعہ نجات کے طور پر، بہت سے فرشتے بھی ہیں جو ہر پارٹی کے سپورٹر ہوتے ہیں لیکن جوابدہ صرف مٹی کو ہوتے ہیں ۔۔ کہ یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے ناناری ہے، بہت سارے ایسے بھی ہیں جو سب کو کٹھ پتلی سمجھتے ہیں اور کسی کو نجات دہندہ نہیں کہتے نہ سمجھتے ، قلیل تعداد ایسے افراد کی بھی ہے جو پاکستانی سیاست کو زمین کے جھگڑے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے ۔۔ ایسے افراد کم ہیں لیکن رائے مصمم ہیں ۔۔ nاب بات صرف اتنی ہے کہ ایسے رقیق قسم کے ماحول میں جہاں بات بات پر ایک دوسرے کے سر اس لیے کھول دیئے جاتے ہیں کہ اس کے سر میں میرا نظریہ نہیں گھس رہا تو ایسی کھوپڑی کو سلامت رہنے کا حق نہیں (اس جملے سے قطعا کوئی یہ مطلب نہ نکالے کہ میں ناموس رسالت کو نظریہ کہہ رہا ہوں ، وہ نظریہ نہیں مقصد حیات ہے اور ماہواری بنیادیوں پر پیدا ہوجانے والے پاکستانی دیسی نظریاتی لولے لنگڑے لبرلز کو مارجن دے رہا ہوں ) تو وہاں یعنی اس فیس بکی حساس ماحول میں اگر کوئی شخص کسی سیاسی لیڈر ، پارٹی رہنما ،اکابرین میں سے کسی کی تصویر لگا کر اس کی تعریف و توصیف کے اندھے بہرے پل باندھتا ہے ۔۔ تو یہ اس کی مرضی ہے — اس کی وال ہے اس کا حق ہے — لیکن پھر جب وہ تعریفیں کرنے کے بعد پوسٹ کے آخر میں یہ جملہ لکھ دے کہ nنازیبا کمنٹس ڈیلیٹ کردئیے جائِیں گے ۔۔
تو مجھے تو ذاتی طور پر ایسے کسی شخص یا ایسی کسی پالٹی سے خیر کی توقع نہیں ۔۔ جن کا حکومت میں آنے سے پہلے یہ حال ہو کہ عام کارکن یا سپورٹر برداشت کے اس پاتال کو ریچ کرچکا ہو کہ وہ مخالف کمنٹ سننے کا بھی روادار نہ ہو– تو اگر ایسی کسی سیاسی پالٹی کو اقتدار نصیب ہوجائے تو یہ پھر مخالفین کے کمنٹس کیا– مخالفین کو ڈیلیٹ کردیا کریں گے — اور پھر اس میں نیا کیا ہے ؟ یہ تو ہر دور کا المیہ ہے، ہر حکمران کا وتیرہ ہے – آخری بات nبھائی اگر نازیبا کمنٹس تمھارے محبوب لیڈر کی مخالفت ہے تو تم کیسے امید کر رہے ہو کہ تمھاری ایک جھوٹی سچی اد کھائی چچوڑی ہوئی پوسٹ پر تین کروڑ پاکستانی لبیک کہہ دیں گے — ؟
اول تو اتنے حساس ہو تو پوسٹ پبلک کرنے کی ضرورت ہی نہیں nیا صرف اپنے ہی ماننے والوں کو ٹیگ کرو یا ان سے شئیر کرو– nتین کروڑ پاکستانیوں سے یہ امید رکھنا کہ سب تمھارے حق میں کمنٹ کریں گے — یہ تمھاری خواہش تو ہو سکتی ہے — لیکن حقیقت بنانے کے لیے محنت کرو نہ کہ تنبیہ ۔۔
پوسٹ – 2017-12-21
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد