انسانیت یا وحشت ۔۔nn—————————————————–nnجن جن اصحاب کا یہ ماننا ہے کہ قادیانی، قادیانی ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستانی بھی تو ہیں۔۔۔ ان سے گزارش ہے کہ یہی بات قادیانیوں سے پوچھ کر دیکھیں اور ہاں یہ بھی پوچھئے گا کہ ۔۔ ان کے ہاں پیدا ہونے کے بعد کان میں پہلے قومی ترانہ سنایا جاتا ہے یا ان کے کسی خلیفے کی تعریف و توصیف
ہمیں قادیانیوں سے کوئی مسئلہ نہیں — جب تک وہ خود کو مسلمان نہ کہیں ۔۔ nہمیں کسی بھی فرقے سے کوئی مسئلہ نہیں — یہاں یہ بات واضح رہے کہ قادیانی فرقہ نہیں ہیں — یہ فتنہ ہیں — ویسے تو یہ فرقے بھی چھوٹے چھوٹے فتنے ہی ہیں۔ ٹیڑھے ہیں پر کیوٹ ہیں –n پر قادیانی فتنے کی جو بنیاد ہے وہ اس ہستی پر وار ہے جس پر تمام مسالک کا اجماع ہے — اجماع کا مطلب ہوتا ہے — متفق ہونا– خیر تو بس اتنا کہنا ہے کہ
انسانیت کی بنیاد، حب الہی ، اور رحم کے چشمے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات کے وسیلے سے پھوٹتے اور قائم ہیں ۔۔ جو اس ذات پر حملہ آور ہوگا — وہ آتو میٹک انسانیت ، رحم اور محبت کے درجے سے گر جائے گا — جب ان قادیانی یا قادیانی زدہ افراد کو یہ سیدھا سافارمولا سمجھ آجائے گا — ان کی گوشمالی بھی بند کردی جائے گی– nایک اور بات — ساءنس ، فزکس فلسفہ جی یو ٹی بولے تو گرانڈ یونی فکشن تھیوری کا جو کوئی بھی ماہر ہو nجیسے کہ یہ عبدالسلام کا رونا روتے رہتے ہیں ۔۔ nعلم کے سارے سرچشموں کا منبع اللہ کی ذات ہے -nاس ذات کا محبوب محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہیں – nسو فزکس یا میتھس بائنری نمبر، ٹرتھ ٹیبل ، ڈیجیٹل وغیرہ کی ساری لاجک کے حساب سے nعلم کے سرچشمے کے محبوب کی قدر اور ناموس پر انگلی اٹھاو گئے تو
تمھارے دنیاوی علم کی قدر مٹی میں رول دی جائے گی — nہمیں کالی کملی تمھاری سائنس وائنس سے زیادہ عزیز ہے – کیوں کہ تم سائنس میں بھی ریسرچ کے محتاج ہو— اور جب اللہ کی محبت اس کے محبوب کی شفاعت کے طالب ہوا جائے تو اللہ آنکھوں سے ریسرچ کا پردہ ایسے اتارتا ہے جیسے کوئی تجلی – زمان و مکان کی قید سے آزادی نصیب ہوتی ہے – تمھاری طرح ٹائم مشینوں کے چکر میں نہیں پڑنا پڑتا۔۔ پھر nحضر ت عمر کا یا ساریہ الجبل ، چودہ سو سال پہلے بھی آج کی ٹی لی کمیونی کیشن کو مات کرتا ہے nپھر شب معراج – تمھاری ٹی لی پورٹنگ ، آئین سٹائین کی تھیوری آف ریلیٹیوٹی ، کو پچھاڑتا ہے nپھر تمھاری ساری تھری ڈی فلمیں ایک طرف اور ابرو نبی کا اشارہ اور شق القمر ایک طرف ہوجاتا ہے nپھر عمر کا دریائے نیل میں پھینکا گیا ایک خط تمھاری ہائیڈرالکس کی ٹیکنالوجی کا سر نیچا کرتا ہے nپھر علی کی قوت فیصلہ کو کسی لا کی ڈگری کی ضرورت نہیں پڑتی nپھر داماد رسول حضرت علی کی ریاضی دانی تمھارے ون زیروز کو شرمندہ کرتی نظر آتی ہے nکہاں تک سنو گے ؟ کہاں تک سناوں nnیہ ہوتا ہے – سائنس کو اللہ کے حوالے کے ساتھ سمجھنے کا معاملہ
تمھیں یہ سب تصوارتی لگے گا – کیوں کہ تم اللہ کے حوالے کے بغیر سائینس کی راہ پر ٹکریں مارتے ہوnnاللہ کے نبی دو جہانوں کے لیے رحمت تھے– لیکن یہ جہاں بنا ہی اللہ کے نبی کی محبت کی وجہ سے ہے — nاور اس نبی کی ذات پر تم قادیانی یا قادیانی زدہ لبرل یا ان کے دو کوڑی کے دوستیاں نبھانے والے دوست اگر سوال جواب کریں گے – یہ یا کوئی اور بھی — تو پھر اس جہاں اور انسانیت کی کیا اہمیت بچتی ہے– پھر بچتی ہے وحشت — اور اس وحشت میں ہوتی ہے لذت– چوائیس تمھاری ہے ۔۔ — انسانیت یا وحشت ۔۔
پوسٹ – 2017-12-25
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد