امیر لڑکا وہ ڈھونڈے جو خود چاند جیسی ہو ۔n—————————————-nnخالی پیٹ محبت تو تب ہو نا — جب محبت ایک ایسی چیز ہو — جس کا واقعی کوئی وجود ہو — nبیوی کو مہینے کے لاکھ دو لاکھ پکڑائیں(اپنی)nاور جب جب جب جتنی جتنی جہاں جہاں چاہیں محبت لٹائیں ، لام پر پیش ہے لام پیش کے ساتھ اچھا لگتا ہے ۔۔ کہ انسان پیشگی پیس ہونے کے قابل رہتا ہے زیر و زبر ہوئے بغیر بہرحال — محبت ایک مادی چیز ہے جیسے کہ معدہ — اور بھوک صرف معدے کی تو ہوتی نہیں ۔۔ nاس لیے پہلے جیب بھاری کریں– پھر خود پر جذبات طاری کریں ۔
اس میں کچھ ایسا غلط بھی نہیں ۔
بس بات اتنی ہے کہ جیب جتنی بھاری ہوگی — محبت اتنی سیلیکٹو ہوگی پھر کوئی بل بتوڑی ٹائپ پاکیزہ خواتین ارم کرن آنچل شعاع خواتین ڈائجسٹ کی دلدادہ یہ نہ کہے — کہ سیرت پر جاو صورت پر نہیں — nدونوں پر جانا چاہئے — سیرت پر بھی جانا چاہئے صورت پر بھی جانا چاہئے nپر ایک مائینڈ سیٹ ہے — عجیب سا ہے — لیکن ہے — حقیقت ہے –۔ اب میرے اس مائنڈ سیٹ کو غلط یا صحیح سمجھنے سے وہ مائنڈ سیٹ مفقود یا مقفود پتا نہٰن کیا ہوتا ہے – وہ نہیں ہوجاتا۔۔ اور وہ مائنڈ سیت یہ ہے ۔۔nn جس کی جیب بھاری ہوگی — وہ آئٹم مہنگا ہی خریدے گاn: اب اس پوری پوسٹ میں مہنگے آئٹم کے لفظ کو پکڑ کر بحث بازی شروع نہ شروع کرے ۔۔کیوں کہ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ لفظ فگر آف سپیچ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے اور فگر کسی بھی اسپیچ یا سین میں ہو تو عین غین یعنی اچھا لگتا ہے ۔ مدعا بس اتنا ہے nکہ جیب بھاری کریں اور پھر محبتیں بانٹیں — کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ چار جگہ بانٹیں ۔۔ خالی پیٹ کی محبت عمیرہ احمد وغیرہ کے ناولز میں اچھی لگتی ہے یا بانو قدسیہ صاحبہ کی ڈپریشن زدہ کہانیوں میں ۔
بی پریکٹیکل — بی رچ — بائے ایکسپوینسو۔
صحیح ہے نا — امیر لڑکا وہ ڈھونڈے جو چاند جیسی ہو ۔۔
یہ میں نہیں کہہ رہا– یہ معاشرے کا مزاج ہے ۔
پوسٹ – 2017-12-27
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد