راج کرے گی تو راج n—————————————————–nnلڑکے کی عمر، کمائی ، بالوں کی تعداد ، گھر والوں کی تعداد ، شادی شدہ ، کنواری بہنوں یعنی ممکنہ نندوں کی تعداد ، دیورانیوں جیٹھانیوں کی شناختی پریڈ، لڑکے کے نام جائیداد ، کمروں کی تعداد ، گھر کے گزوں کا حساب۔۔
ان سب باتوں کی تفصیل جاننا توحق سمجھا جاتا ہے nاور ساتھ ہی ساتھ یہ جملہ توشے کے طور پر نوشے کی بیوی کے ساتھ دیا جاتا ہے n”ارے نہ کوئی آگا نا پیچھا اکلوتا لڑکا ہے — ساس سسر کا کیا ہے — آج ہے کل نہیں — اکیلے گھر میں راج کرے گی تو راج –” nاس سب کے ساتھ ساتھ اگرکوئی مطالعاتی پیمانوں پر پھرکنے والا شخص یہ سوال پوچھے کہ nہائیٹ ، کلر، فگر، باپ کمائی کا آسرا، سلامی میں کیا ملے گا ، خوبصورتی کے پیمانہ میں اتارا جانا ۔ ہیل کے بغیر کیسی دکھتی ہو ، پیٹ تو نہٰن نکلا ہوا ۔۔ آواز میں مٹھاس ہے یا نہیں پاوں کا رنگ اور شیپ کیسی ہے — ہونٹ بھرے ہیں یا پتلے — ہنستے ہوئے بدنما لگتی ہے یا معصوم ، ڈمپل پڑتے ہیں یا نہیں ، جسم صاف رکھتی ہوں فٹنس کا خیال رکھتی ہو یا نہیں کالی ہو یا گوری سانولی ہو یا گندمی ، ویکسنگ بلیچنگ کرواتی ہو یا نہیں ۔
ان سب کے بارے میں سوال ہو — تو پھر صورت نہیں سیرت بیچی جاتی ہے ۔۔
شریعت کی طرف بھاگ بھاگ جایا جاتا ہے ۔۔
کیوں ؟
جب چھان پٹک ہو تو دونوں طرف سے ہو — ایک طرف سے ہوگی تو دوسرا کیوں پیچھے رہے گا ؟ nبیٹے کو اے ٹی ایم سمجھا جائے گا تو پھر بیٹی کو بھی وہ پروڈکٹ ہی سمجھے گا
لڑکے اور لڑکی دونوں طرف یہ مسئلہ پایا جاتا ہے ۔۔
پوسٹ – 2017-12-27
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد