پوسٹ – 2017-12-31

حنائی ہاتھوں کی خوشبو نے ولید کے اندر انقلاب جگا دیا تھا
وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور صالحہ کی تصویر کے سامنے دو زانو ہو گیا۔۔
اسے اپنی نئی نویلی منکوحہ کے سامنے ایسے بیٹھنا۔ پسند تھا ۔ بس چپ چاپ دیکھے جاتا ۔۔ محسوس کیے جاتا۔۔ nآج وہ سامنے نہیں تھی تو کیا ہوا اس کی تصویر ہی صحیح
یہ ولید کی محبوب ترین تصویر تھی nنوبیاہتا دنوں میں کُھلکھلاہٹ کو کیمرے نے کچھ اس طرح اپنی قید میں لیا تھا کہ صالحہ کہ ایک گال پر مہندی کا دھبہ اور دوسری پر اس کا حیرانی آمیز کھلکھلاہٹ تھی۔ ۔
ولید نے پیار سے اس کے چہرے کو مہندی سے داغدار کیا تھا۔۔nnوہ کہتا تھا کہ میرا بس چلے تو تمیں مجسم مہندی کردوں nاور پھر تمھارے روم روم سے مہندی کی خوشبو پھوٹے ۔۔ nصالحہ کو بھی مہندی بہت پسند تھی کہ وہ اس کا دلہناپا تازہ رکھتی تھی۔۔
آج ولید اسی تصویر کےسامنے دوزانو بیٹھا تھا۔۔
فرق صرف اتنا تھا کہ اس کے موبائل میں جو دوسری تصویر تھی ۔۔۔اس میں بھی صالحہ کے گالوں پہ ایک ہاتھ تھا۔
جو مہندی مل رہا تھا اور صالحہ اسی انداز میں کھلکھلا رہی تھی جس سے مصنوعی غصے کا اظہار بھی ہوتا تھا۔۔nnآج مہندی کا پریم رنگ۔۔۔ خون رنگ شب میں بدلنے کو تھا۔nnولید نے سامبے رکھی صالحہ کی تصویر کے چہرے کو مسخ کردیا۔۔۔ اب شاید رشتے کی باری تھی۔۔nn- پریم رنگ _ دی لاسٹ گڈ بائے سے اقتباس

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.