ضروری نہیں کہ سب کراچی والے ہی ایسے ہوں n—————————————————–nnمیں یہ نہیں کہتا کہ یہ سب کراچی والے ایسے ہونگے ، لیکن ایسے بھی ہیں ۔۔ کچھ ، بلکہ زیادہ تر۔ مایوس افسردہ اور کام چور ذہنیت ، تھوڑی سی تکلیف ہو تو نرم نازک جسم چھل جاتے ہیں ان کے اور پھر اس طرح کے تبصرے کرتے پائے جاتے ہیں ۔nnملاحظہ فرمائیے ۔
ان سب تبصروں میں سے کوئی ایک تبصرہ بھی ایسا نہیں ہے جس میں ، میں نے اپنی طرف سے کوئی ایک لفظ بھی کم یا زیادہ کیا ہوا ۔۔ من و عن لکھ رہا ہوں nnپہلا شخص ، پہلا تبصرہnn—————————————-nسرجانی سے ٹاور تک بنتے میٹرو ٹریک کو دیکھ کر ایک مڈل کلاس گٹکا خورکراچی کے پیدائیشی اور رہائشی بائک والے کے کمنٹس۔nn”ابے کیا ماں بہن کر کے رکھ دی ہے روڈ کی — کیا فائیدہ اس سب توڑ پھوڑ کا، بن بھی گئی تو کیا ہوجانا ہے ۔۔”nnدوسرا شخص، دوسرا تبصرہn—————————————-nnکراچی کے مڈل کلاس سے تھوڑے سے اوپر والے طبقے کی وہی سیم مڈل کلاس مینٹیلیٹی۔nn”جو سفر میٹرو میں آدھ گھنٹے میں طے ہو رہا ہے وہ دو گھنٹے میں بھی ہوجائے تو کیا ہوا “nاس تبصرے سے وقت کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ، ان لوگوں کے نزدیکnnتیسرا شخص ، تیسرا تبصرہn—————————————-nnتیسرا الگ کمنٹ الگ بندہ، لیکن وہی سیم مڈل کلاس مفت خوری ذہنیتnn”ابے بھائی آپ کو کیا بتاوں اتنی کرپشن ہے نا اس انفرا سٹرکچر کو کھڑا کرنے میں کہ آپ کی سوچ ہے ۔۔ یہ سب اسی لیے ہو رہا ہے کہ حکومت کی اپنی سریے بجری کی فیکٹریاں ہیں وغیرہ وغیرہ “۔nnیہ تین تبصرے ، کراچی کے پیدائشی ، کراچی کے رہائشی اور کراچی کا کھانے والوں ،اور کراچی کو بردباد کرنے والوں کو ووٹ دینے والوں کے ہیں ۔nnمیں پھر کہتا ہوں کہ سب ایسے نہیں ہونگے ، بدقسمتی سے اکثر کا یہ حال ہے nمجال ہے کراچی کا جم پل کوئی ایک مڈل کلاس گٹکا خور ملا ہو جس نے کراچی کے لیے کچھ کیا ہو یا کراچی میں ہونے والے ترقیاتی پروجیکٹس پر کوئی خوشی کا اظہار کیا ہو۔۔
پوسٹ – 2018-02-08
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد