نواز شریف نے مشرف کو یہ سوچ کر چیف آف آرمی سٹاف لگایا تھا ، کہ یہ مہاجر ہے ، اردو سپیکنگ ہے ، شریف آدمی ہے ، ورنہ مشرف ، میرٹ کے لحاظ سے کسی طور اس قابل نہیں تھا، اس کے گریڈز اچھے نہیں تھے ، اس کے مارکس اس قابل نہیں تھے اور اس سب سے قبل پرویز مشرف جب ڈی جی ایم و تھا تو اس نے یہ کہا کہ کیوں نہ ہم ملک پر قبضہ کرلیں ہم ان (سیاست دانوں سے ) سے بہتر ملک چلا سکتے ہیں تو مٰیں نے ان سے کہا کہ میں تو نہیں چلا سکتا ، آپ شاید چلاسکتے ہوں اور آپ کی یہ سوچ بہت غلط ہے nاور ایک بات مزید بتاتا چلوں کہ جب بریگیڈئیر سے میجر جنرل کے لیے ان کا بورڈ ہوا تو اس میں بے نظیر نے ان کو ڈراپ کردیا میرٹ کے اوپر ۔۔ کہ اس کی پروموشن نہیں ہونی چاہئے اس وقت بے نظیر نے جو کمیٹی بٹھائی تھی اس نے یہ رپورٹ دی تھی کہ مشرف کے ملٹری کیریر میں سزائیں زیادہ ہیں ، اس کا کیریر ٹھیک نہیں ہے ، اس کی ریکیمنڈیشنز نہیں ہیں تو ملٹری اصولوں کے مطابق اس برگیڈئیر سے میجر جنرل کے لیے پروموٹ نہٰں ہونا چاہئے پھر اسے نے ملاپ کر کے ، مینوور کر کے اپنے کو پروموٹ کروا لیا اور اگر یہ اس وقت پروموٹ نہ ہوتا ، یعنی برگیڈئیر سے میجر جنرل نہ بنتا تو آج بے نظیر صاحبہ زندہ ہوتیں nیعنی پھر ہہ پروموٹ ہی نہ ہوتا
لیفٹینیٹ جنرل بھی نہ بنتا
چیف آف آرمی سٹاف بھی نہ بنتا
اور کو بھی نہ ہوتا یعنی مارشل لا ہی نہ لگتا nاور ملٹری کو نہ ہوتا تو بے نظیر صاحبہ زندہ ہوتیں nn- جنرل (ریٹائرڈ) ضیاالدین بٹ
پوسٹ – 2018-02-28
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد