حیرت ہوتی ہے ، افسوس بھی ، اور دکھ– نہیں دکھ نہیں ہوتا ۔۔ nجب سیاسی کیچڑ میں ڈبکیاں لگا کر اس کی بو کو انجوائے کرتے اس کو ایک دوسرے کے جسموں پر ملتے ، ایک دوسرے پر پچکاریاں مارتے ، ایک دوسرے کی عزتیں وال پر رگڑتے ، وہ بھی تصویروں کے ساتھ ۔۔ یہ بے چارے پالٹی کارکن ۔۔ اب وہ کوئی بھی ہو ، لڑکا، جوان بوڑحا، عورت، لڑکی سب ۔۔ اپنے اپنے لیڈروں کو پیغمبر بنا کر ان کا دفاع کرتے پائے جاتے ہیں ۔۔ ایسے ایسے ذہین ہیرے ، کیسے کیسے جواہر پارے ۔۔ کیسے کیسے سرخاب کے پر ۔۔ پھر پھر کردئیے ہیں اس گندی سیاست نے ۔۔ یہ تو ہوئی ایک بات — nاس سے جڑی دوسری بات یہ ہے کہ مزید افسوس کا باعث بنتے ہیں nوہ افراد جن کی وال پر موجود ہر دوسری تحریر، اینٹی لبرل ، اینٹی قادیانی ، اور اینٹی ملحد ہے اور جن ی ذاتی زندگی بھی کم از کم مجھ سے تو زیادہ شعائیر اسلام کی پابندی میں ڈھلی نظر آتی ہے ۔ اور حسن ظن (زن نہیں) یہ ہےکہ واقعتا بھی ان کے دل میں اللہ کے نبی کی محبت موجزن ہوگی ۔۔ nکنفیوژن بس اتنی ہے کہ یہ قادیانیوں سے نفرت اور حب رسالت کا دم بھرتے افراد جب پالٹی باز پر آتے ہیں تو
ان کا کامن پوائنٹ ، بجائے پالٹی بازی کہ ، قادیانیت کے خلاف کیوں سیٹ نہیں ہوپاتا ، جب کہ یہ سب لوگ اینٹی قادیانی بھی ہیں ، nکیا ناموس رسالت کا دفاع ان کے لیڈروں کی ذاتی اور معاشرتی زندگی سے بھی گیا گزرا ہے ۔۔ نعوذباللہ
تو بات یہ ہے کہ یہ سب دیکھ کر حیرت تو ہوتی ہے لیکن دکھ نہیں ۔۔ کیوں کہ ان کارکن ٹائپ طبقوں کی ذاتی انا آڑے آتی ہے ، نہ کہ نظریات اور انا کو پوجتے ان کنویں میں ڈبکیاں کھاتے ان مینڈکوں پہ کیا دکھ کرنا۔
پوسٹ – 2018-03-07
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد