پوسٹ – 2016-11-13

ڈیپارٹمینٹل اسٹور nnنہیں تمھارے ریمپ واک پہ کوئی اعتراض نہیں پر کم از کم میڈیا کے والدین بننا چھوڑ دو ۔ یا کہہ دو آن ریکارڈ کے تم لوگ ایک پروڈکٹ ہو جو چاہے خرید لے یہ آج کل کے ہر لفافی سوری صحافی کے لیے ہے یہ اور وکلاء (ظاہر ہے سب نہیں ) اگر کہہ دیں کہ ہم لوگ قوم کی ذہنی بڑوھوتری کے بجائے بھڑوت گیری کا کام کرتے ہیں ۔۔ بول ہو یا کھول جیو پو یا پیو ۔۔ کوئی بھی کوئی بھی اور وکلا (سب نہیں )کہہ دیں کہ ہم سے زیادہ اچھا پالتو اشتہاری بدمعاش کوئی نہیں تو کوئی اعتراض نہیں ۔۔ کوئی مسئلہ نہیں ۔ بس پلیز جو کرنا ہے کھل کر کرو اور اون کرو ۔۔ تاکہ لوگ تم لوگوں کو سنجیدہ نہیں لیں ۔۔ سی جے کے دورمیں وکلا کے اندر کا جو بدمعاش باہر آیا ہے وہ اندر جانے کا نام ہی نہیں لے رہا۔۔ اور میڈیا کو جب سے آزادی ملی ہے ۔۔ یہ لوگ پروڈکٹ بن گئے ہیں جب کہ کہیں پڑھا تھا کہ جیو کے والد صاحب خلیل الرحمن کہتے تھے کہ ہمارا اخبار ایک ڈیپارٹمنٹل اسٹور ہے یہاں جہاں شراب بھی ملتی ہے جائے نماز بھی ۔ اس سے زیادہ اور کیا کہا جائے ۔۔ خیر یہاں کوئی میڈیا کا نمائندہ یا وکلا کا کوئی ٹؤٹا تارہ اگر شہاب ثاقب بن کے آیا تو ۔۔ لول ۔۔ خیر ہنس ہی سکتا ہوں اس غریب کے انجام پر

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.