انٹل ایکچوئلی ختم شدn———–—————————-nاچھا ایک مزے کی بات یہ الطاف زادے مہاجر اس بات پر بھی فخر کرتے ہیں کہ ان کے روحانی والد گرامی نے آج انگریزی میں بات کی.nایسا ہی ہے کہ کیوں کہ آج سے کچھ عرصہ قبل مجھے خود کئی الطافیوں نے اپنے روحانی والد صاحب قائد تحریک الطاف حسین بھائی کے ڈکرانے کی وڈیوز انباکس لا لا کر شئیر کی — اور کہا n”یہ دیکھ اپنے باپ کی انگریزی میں تقریر ، یہ دیکھ تیرا باپ کیسے زبان دانی کا مظاہرہ کر رہا ہے “nیہ دیکھ ، تیرا باپ ، یہ دیکھ اپنے باپ ۔ n( یہ ہیں پڑھے لکھے مڈل کلاس جاہل الطاف زادے مہاجر)nn(روحانی باپ اور بھائی ، دونوں، یہ ایجاد بھی انہیں کے سر ہے ویسے )n.چلو ان حشرات الارض کو مارجن دے دیتے ہیں کہ n”بھائی بھی استاد ہو سکتا ہے اور استاد کا درجہ روحانی باپ ہی ہے ” nاسی لیے انہوں نے لکھ دیا ہوگا، ویسے ان ڈولے شاہ کے چوہوں کو یہ دلیل بھی شاید ہی معلوم ہو ، چلو خیر چھوڑو کیوں کہ ان سے دلیل سے بات کرنا ایسا ہی ہے کہ جیسے آپ لال بیگوں سے خطاب کر رہے ہوں کہ اپنے انٹینے نہ ہلاو، رینگنا بند کرو ۔۔ nnان سے زبان دانی کے بارے میں کچھ پوچھو ، ادب آداب گٹکا خوری پر سوال کرو کہ
ہر اک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے ؟ nتو ان کی پڑھی لکھی مڈل کلاسیت وہیں چیخیں مار اٹھے گی کہ ، انہین کیا خبر ، کہ یہ طرز تخاطب کا مطلب کیا ہوتا ، ان کے فرشتوں کو بھی نہیں پتا کہ کراچی کولاچی تو پوسکتا ہے ، کرانچی ہرگز نہین ، اب یقینا یہ پوسٹ تعصب لگ رہی ہوگی ؟ لگنی چاہئے ۔جب کبھی آپ کو محسوس ہو کہ پوسٹ الطاف زدگی کے مدار سے نکل کر مہاجر مرکبات پر حملہ آور ہورہی ہے ، باوجود اس کے کہ پوسٹ میں جگہ جگہ الطاف زدہ مہاجر لکھا ہوا ہے — تو سمجھ لیجئے آپ لاکھ چیخیں چلائیں ، کہ آپ الطاف سے نفرت کرتے ہیں ، آپ ایم کیو ایم کو فتنہ سمجھتے ہیں ، یقین کیجئے آپ اس بے گردن مخلوق کو اندر خانے اپنا مسیحا ہی سمجھتے ہیں ، ہاں اگر ایسی پوسٹ آپ کو صرف ایم کیو ایم ، الطاف زدہ مہاجر زادے ، یعنی وہ مہاجر جو ایم کیو ایم کو خدا اور الطاف کو مسیحا بعوذباللہ پیغمبر بنائے بیٹھے ہیں ۔۔ تو اس کا مطلب ہے کہ پوسٹ کا مقصد پورا ہوا ۔۔
کیوں کہ ظاہر ہے جن کے ہاں یہ رواج ہو کہ ان کی بہن بیٹیاں تک جلسہ عام میں اپنے بھائی سے ری پروڈکشن طریقے سمجھ کر جی بھائی جی بھائ کرتی ہوں. ان کے ہاں ایسے ہی انٹل ایکچوئلی مشت زن افراد کی کثرت ہوگی جنہیں گٹکے نے ماوف کر کےرکھ دیا ہوگا.اور وہ یہی سمجھیں گے کہ لسانی مہارت کسی طور تعلیم یافتہ ہونے کی نشانی ہے یا قابل فخر بات ہے .. ہونی بھی چاہئے ان جیسوں کے لیے
جو آج تک کراچی کو کرانچی اور چاول کوچانول کہتے ہیں اور پیپسی والا تلفظ تو آپ سب جانتے ہی ہوں گے اب اس طرح کے قابل گردن زنی الطاف زادےحشرات الارض یہی سمجھیں گے کہ انگریزی بولنا تعلیم یافتہ ہونے کی نشانی ہے. اگر واقعی لسانی مہارت ، تعلیم یافتہ یا شعور کی نشانی ہوتی تو انگریز سب سے بڑا جاہل ہوتا ، کہ اسے اس قابض گروپ کی مال غنیمت اردو دور سے بھی چھو کر نہیں گزری ، وہ تو خیر انہیں بھی چھو کر نہیں گزری ۔۔ بہرحال ، اتوار کا دن ، ان پر اتنا چھڑکاو کافی ہے ۔۔
یہ بس وہ والے کیڑے ہیں جن پر نمک لگاو تو اچھلتے ہیں ۔۔ ان کو زندہ رکھنا چاہئے ، اور نمک ڈالتے رہنا چاہئے ۔
پوسٹ – 2018-03-18
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد