پوسٹ – 2018-03-26

دل کے سینسر اورشہ رگ میں بستا خدا۔۔n——————————————————-nروٹی ، بڑا گوشت بڑا ہو یا چھوٹا ، چاول ، عورت، خوشبویات
ساری دنیا کے فلسفے ان چند چیزوں کے گرد گھومتے ہیں — ساری محنتیں ، ساری محبتیں ، سب کرپشنیں ، تمام بھیڑ چال ، پورا کا پورا کارپوریٹ کلچر ۔۔ سب اہلیتیں ، ساری ناہلیاں ، سب حلال حرام ، ساری سٹرگل ، ساری حرام خوری ، ساری حلال خوری — ناصیتہ کاذبہ کی ساری پلاننگز، شطرنج کی تمام چالیں ، تمام مہرے ، سب کچھ، سب کچھ — پورے کا پورا پاور پلے — nکیا ان چند چیزوں کے گرد نہیں گھومتا — ؟ کبھی بصورت زمین ، کبھی اقتدار کی شکل میں تو کبھی نوٹوں کی شکل میں ۔۔ nکیا کوئی باذوق ان کی اہمیت سے انکار کر سکتا ہے ؟ نہیں کرسکتا۔۔خالق سے زیادہ اپنی مخلوق کی ضروریات کس کو معلوم ہونگی ؟
جواب میں وہ صمد ہم سے کیا چاہتا ہے ؟ صرف محبت اور کیا ؟ nوہ تو سیدھے رستے سے بھی ہمیں یہ سب دینے پر راضی ہے ۔ اور دیتا ہے -جس کی ضرورت اسے بھی نہیں — ہمیں ہے — nکون محبوب ایسا ہوگا جو جس کو محبت کی ضرورت بھی نہیں اور وہ یہ بھی کہتا ہو nمیری طرح چل کر آو گے — تو میں دوڑ کر آوں گا –nاور اسے دوڑ کے آنے سے اس پر کوئی فرق بھی نہیں پڑنا — اس کی محبت کی اتنی کھلی آفر — اتنی بے پایاں رحمت کو ہم دلائل جیسی حقیر بات کے لیے ٹھکرا دیں ۔۔ آپ جس ہستی کے باجگزار ہوں — وہی ہستی آپ کو محبت دے تو بجائے آپ اس کی محبت اور اس کے نتیجے میں ملنے والی نعمتوں اور فضائل کو قبول کرنے کے بجائے — اس پر ہی سوالات اٹھاو– جب کہ آپ کھلونے ہو کھلاڑی نہیں
یہ بات عقل بھی تو گوارا نہیں کرتی — جذبات کیسے کرلیں — محبوب ملن کا متمنی ہے لیکن اس کو فرق نہیں پڑتا پھر بھی شفقت کا اظہار اس کی طرف سے — آپ کو فرق پڑتاہے اس کے ملنے نہ ملنے پر آپ کی کائنات مسمار یا معمور ہو سکتی ہے — خوشبو سے بھر سکتی ہے نعمت سے مالامال ہوسکتی ہے لیکن آپ ہیں کہ منہ موڑے بیٹھے ہیں اس کے وجود اس کی ہستی پر سوالات اٹھاتے ہیں۔اس کے موجود ناموجود پر بحث کرتے ہیں جبکہ کہ وہ اپنے جلوے مختلف نشانیوں کے ذریعے کرواتا بھی رہتا ہے –nمطلب مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی ۔ کہ تجلی کے متحمل آپ نہیں ہوسکتے — اور سوال اٹھاتے ہیں کہ وہ سامنے کیوں نہیں آتا – کمال کردیا آپ نے یہ بات کر کے – اس سے چھوٹی مثال کیا دوں کہ تھری ڈی فلموں جیسی انسان کی بنائی ہوئی چیزیں بغیر تھری ڈی چشمے کے دیکھیں تو آپ کو نظر نہ آئیں – اس کے لیے بھی آپ کو ٹیکنالوجی کے آگے ماتھا ٹیکنا پڑتا ہے – تھری ڈی گلاسسز لینے پڑتے ہیں – اور آپ لیتے ہیں ایکسٹرا دو سو روپے دے کر—اس وقت آپ کا دماغ دلیل نہیں مانگتا کہ یہ جو نظر نہیں آرہا ٹھیک سے — تو اس کی وجہ کیا ہے –اس وقت آپ چپ چاپ گلاسز خریدتے ہیں – nتو مجھے اتنا بتائیں کہ کائنات کے اس عظیم فرما نروا کا دیدار محض آپ کے سوالات کی بنا پر ہوجائے گا ؟ ہوگیا تو برداشت کیسے کرلیں گے – ہم تو عام انسان ہیں — سدرالمنتہی سے اوپر تو جبرئیل کے پر جلتے ہیں – طور پر تجلی گرتے ہی موسی کو غش آجاتا ہے – ہم کیسے سوچ سکتے ہیں کہ وہ سامنے نہیں آتا—ارے محبوب ہے وہ – خالق ہے ہے وہ – ہم اس کی مخلوق ہیں اس کو معلوم ہے کہ ہماری آنکھِں ہمارے دماغ انرجی کے کس لیول کو سہار سکتے ہیں ارے ہم کو انفرا ریڈ بھی دکھائی نہیں دیتا- انکار کیا کبھی اس کا ؟
الٹرا ساونڈ سنائی نہِیں دیتا—انکار کیا کبھی اس کا ؟مائکرو ویو دیکھے بغیر اس سے اوون بنا لیا – وویز کی حرارت محسوس ہوتی ہے – اللہ کی موجودگی نہیں ہوتی ؟ کیوں نہیں ہوتی ۔۔ ویوز کی کیوں ہوتی ہے ۔۔ کیوں کہ اس کو ناپنے کے آلات بہت حساس ہوتے ہیں – ہر فریکوئنسی ہر آلہ پکڑ بھی نہیں پاتا- ریڈیو کی ہر فریکوئنسی کا الگ بینڈ ہے – ہر چینل ہر بینڈپر نہیں آتا –nالیکٹرون دیکھیں ہیں کسی نے آج تک ؟ مانا ہے نا ؟ کیوں مانا ہے ؟ کرنٹ نظر آتا ہے تار میں اس لیے – اس سے پہلے بھی تو آسمانی بجلیاں چمکتی تھیں – جب چارج دریافت نہیں ہوتے تھے ۔۔ طوفان نوح آپ کو مذاق لگتا ہے – لیکن سونامی خطرہ — nآپ کے دل کا ریسور اس قدر حساس ہے کیا کہ آپ خدا کی موجودگی کو پکڑیں – اس کو محسوس کریں ؟؟؟ غیب پر ایمان کی بات ہو تو ایٹم دیکھا ہے کسی نے – ؟ nمفروضا ہی تھا نا ؟ ردر فورڈ یا بوہر اٹامک تھیوری سے سے پہلے ایٹم مفروضہ تھا ویسے لفظ تھیوری کا مطلب معلوم ہے کیا ہے ۔۔ چلیں چھوڑین – انہوں نے کہا تو مان لیا ۔۔ کیوں مان لیا بھائی ۔۔ اور ایسا مان لیا کہ اس پر تحقیق کرتے کرے ایٹم بم بنا لیا – خدا پر اس قدر سبقت کی کبھی – اس کے راستے پر تو آپ نے سفر ہی انکار سے شروع کیا
انرجی کی لہریں نظر نہیں آتی ہیں ۔ تو کیا آپ بیٹھ گئے یہ مان کر یہ نہیں ہوتیں – nکچھ عرصے قبل ناسا نے گریوٹی ویز کی موجودگی کا انکشاف کیا—آپ نے شادیانے بجائے – کیوں ؟ جا کر دیکھی ہے کیا اوپر؟
بلیک ہول سے متعلق جتنی بھی تحقیق ہیں – دیکھا ہے یاناسا کے غیب پر ایمان لے آئے – قرآن آپ کو قصے کہانیاں لگتا ہے – محمد صلی اللہ والہ وسلم کی ذات — آپ کو نعوذ باللہ فرضی کردار –یہاں پر آکر آپ کو بغیر تحقیق انکار کیوں آتا ہے دماغ میں –nدل کے سینسر کو حساس بنائیں ۔۔۔ راتوں کو روئیں – شہ رگ کیا – رگ رگ میں خدا کا وجود محسوس نہ ہوا تو کہئے گا ۔۔۔
مثالیں اور بھی بہت سی دی جاسکتی ہیں سائنس اور ٹیکنالوجی کے آئینے میں خدا کا وجود آپ کو دکھانے کے لیے — بغیر کسی مذہبی دلیل کے — ضرورت ہی نہیں پڑتی — خدا کو مذہب سے ثابت کرنے کی کیوں کہ وہ تو آپ کو قصے کہانیاں لگتی ہیں — اس لیے ذرا اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں صرف سائنس ہی خدا کی وحدانیت کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے -nn- اپریل 2017

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.