بوٹے پالشئیے اور آئین کے مسٹر خوام خواہ ٹائپ محافظ دور رہیں n—————————————————-nپہلی بیوی سے دوسری شادی کی اجازت لینے کی شق کو قانون کا نام دینے والے گلابی رنگ کے کیوٹ سے قانون دان ٹائپ یا سرکاری انصاف کا بول بالا کرنے والے ماجھے گامے بالے ، اور ان کے حمایتی وکیل ، اس مدعے کو دو بیویوں میں عدل کے نام سے مکس کرتے قلم سے ناڑا ڈال کر رکھنے والے صحافی نما مخلوق، جن کی بالتریب زندگی ہی ، وکالت، صحافت ، ضلالت اور دلالت پر مبنی ہے ۔۔ جو ریاست کا چوتھا نہیں بلکہ – وہی والا ستون ہے جو سننے میں چوتھا ہی ہے لیکن تاثیر ذرا کڑوی ہے ۔۔ nان عجیب سے افراد سے صرف اتنا کہنا تھا کہ nفرانس میں پردے پر پابندی کا قانون تھا ، وہاں جس نے پردہ کرنا چاہا ۔۔ اس نے جرمانہ دے کر بھی پردہ کیا ۔۔ اور یہاں تم لوگ فطرت سے متصادم ہو کر قانون کا نام دیتے ہو ۔۔ میں بوٹ بالشیوں وغیرہ سے اتنی ہی چڑ رکھتا ہوں جتنی رغبت ہمارے ہاں فرشتے کاروبار سے رکھتے ہیں ، کھال کا ہو یا کھاد کا ،،پھر بھی یہ دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی سے اجازت کا قانون بنانے والے کو یہ ایسے ہی جملے راس آتے ہین جو کہے بھی ایک دکٹیٹر نے تھے nn”آپ کس قانون کی بات کرتے ہیں ؟ جو محض ایک ردی کا ٹکرا تھا “nاور یہ عورتوں کے حقوق کا خوام خواہ ترجمان بھی ایک ڈکٹیر تھا جس کے عائلی قوانین نے اتنی شہہ دی گی ۔۔ یہ وہی تھے جن کے پیش رو ، سرکاری تقریبات میں بھری محافل میں گملے میں پیشاب کر کے پاکستان کا وقار بلند کیا کرتے تھے ۔۔ یہ وہی تھے جن کے پیش رو سرکاری تقریب میں موجود ایک دوست ملک کی شہزادی کا ہاتھ تھام کر اس سے قرب کی بھیک مانگتے تھے ۔۔ ایسے افراد جب قانون اور وہ بھی ایسے قانون کی بات کریں کہ پہلی بیوی سے اجازت لے کر دوسری شادی کرو ورنہ سزا ہوگی تو اس سے محض اتنا عیاں ہوتا ہے کہ n”یس باس ، نو سر، کولیٹرل ڈیمج، نظریہ ضرورت، آئین کے تناظر ” جیسے خوشنما دھوکوں کے ساتھ زندگی گزارتے افراد ، یا تو عورت کو آئین سمجھ کر پوجتے ہیں یا پھر باس سمجھ کر یس سر نو سر کرتے ہیں لیکن یہی افراد شرمین عبید یا ملالہ ٹائپ نمونوں کو خواتین کے حقوق کا جھنڈا تھما دیتے ہیں ۔۔
اس لیے بس اتنا سمجھ لیں کہ ریاست کا چوتھا ستون ہو یا مقدس بپھرا ہوا باوقار سانڈ ۔ ان لوگوں کو سنجیدہ لینے کی ضرورت نہیں ۔۔۔ کہ آئین کی کوئی شق اگر فطرت یا خود آئین کی بنیاد یعنی اسلام سے ٹکراتی ہے تو اسے جوتوں کی نوک پر رکھیں ، کہ در اصل ایسی شقیں یا ایسے اسباب جو آئین کو کنفیوژن کا گہوارہ بنا دیں کسی صورت حب الوطنی کا فارمولہ نہیں ہوتے ۔۔ اور اگر کوئی سینگ پھنسائے بھی تو اس کو سیدھا سا جواب دیں ، پہلے آئین کی رو سے ، سود ختم کردو بغیر کسی بکواس کے پھر قانون پڑھانا کہ دوسری شادی کے لیے کس سے اجازت لینی ہے کس سے نہیں۔۔
پوسٹ – 2018-04-23
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد