پوسٹ – 2018-04-24

فیصلے کی قبض اور رائے کی بواسیرn—————————-n”یہ میری رائے ہے، آپ چاہیں تو اس سے اختلاف کر سکتے ہیں ۔”nیہ وہ جملہ ہے جوہر کتے بلے اور خچر وغیرہ کو اس دھوکے میں مبتلا کرتا ہے کہ اس کی بھی کوئی حیثیت ہے ، یہ جملہ کام چوروں کے ٹولے میں اسے مزید باربرداری پر مائل کرتا ہے وہ یہ سمجھ کر ناک کی سیدھ میں دوڑتا چلا جاتا ہے کہ وہ شاید کسی ٹیم ورک کا حصہ ہے اور اس کی کاوشوں سے ہی پروجیکٹ پایہ تکمیل تک پہنچے گا – وہ دوڑتا رہتا ہے اور مفاد پرست بالائی انتظامیہ اس پر ہنستی رہی ہے اور اسے چھیچھڑوں سے نوازتی رہتی ہے ۔ کبھی امپلائی آف دی منتھ ، کبھی سپر سیلز مین ، کبھی اس ماہ کا لکھاری ، کبھی اس ماہ کا قاری ۔۔ وغیرہ وغیرہ n، وہ یہ بھول جاتا ہے کہ رائے وہی دیتا ہے جس میں فیصلے کی قوت یا ہمت نہیں ہوتی
ہو سکتا ہے یہاں سیاسی مذہبی مداریوں کو ناک میں مرچوں کی دھونی آجائے اور وہ قرون اولی کی مثال دیتے ہوئے یہ فرمانے لگیں کہ nمشورہ تو سنت ہے ۔ nجی ہے — بالکل ہے — nیاد رکھیے ایسے احباب جو صرف اپنی رائے سنانے کے لیے احادیث بیچتے پائے جائیں — ان کو اس معاشرے مین سونگھنا کافی آسان ہے ۔۔
ان سے بس اتنا سوال کیجئے n” معطل جناب شوری کے شہدے صاحب کیا آپ نے اپنی بہن ، بیٹی یا بیٹے ان سے ان کی ازداوجی زندگی کے بارے میں کبھی رائے اور مشورہ لینا تو درکنار ، اس پر کبھی سوچا بھی ہے ؟”nمعطل کا مطلب وہی ہے جو اس کسے صوتی اثرات ہیں ۔ بہرحال اتنا سمجھ لیں یہ ایسے معطل افراد کو سنتیں بھی وہ یاد رہتی ہیں جو خود انہیں سوٹ کرتی ہوں ۔۔ ہو سکتا ہے ایسے معاشرتی اور نظریاتی اور لیڈروں کے پیچھے خچروں کی طرح تھوتھنی اٹھا کر چلنے والے غلاموں کے بیچ کچھ افراد واقعی سنت کی حیثیت کو سمجھتے ہوں لیکن وہ گنتی کے ہوں گے اور عوامی شعور (جو بذات خود ایک وہم ہے ) گنتی کے چند افراد پر مشتمل نہیں ہوتا۔
کہنا صرف اتنا ہے کہ یہ جو ایک دھوکہ ہے نا جسے میں اور آپ n”میرے رائے ہے آپ چاہیں تو اختلاف کر سکتے ہیں ” یا” آزادی اظہاررائے ” کے نام سے جانتے ہیں
یہ مفاد پرست اور فریبی افراد کا صرف اور صرف ابہام پیدا کرنے کے لیے گھڑا گیا ایک فتنہ ہے ۔۔ وہ کمین فطرت اور خود غرض افراد جو یہ بات کرتے ہیں ان کو دیکھ لیں پرکھ لیں سمجھ لیں تو آپ کو یقین آجائے گا کہ ان سب میں میں سے کوئی ایسا نہیں ہوگا جو ، اتنی عقل رکھتا ہو، کہ موجودہ معاشرے میں رائے وہاں ہوتی جہاں کام نہ کرنے کا موڈ ہو، یا کام کو تعطل کا شکار کر کے بس منتھلی پگار پکی کرنی ہو ۔۔ ، کیونکہ جہاں کام کرنا ہو ، ہدف حاصل کرنا ہوِ وہاں رائے نہیں – اطاعت ہوتی ہے – اطاعت کے لیے حکم ضروری ہے اور حکم کے لیے فیصلہ اور وہی ہو کر نہیں دیتا، کہ ہر چنٹو چمار اپنی رائے کے اظہار میں ابن خلدون چل رہا ہوتا ہے ۔۔ nیہ جمہوری بکواس ہے جس کا کسی بھی طور اسلام یا شریعت سے تعلق نہیں ۔ نہ ہوگا۔ اسے کچھ لوگ ووٹ کے لیے استعمال کرتے ہیں ، جمہوری ڈھکوسلے کو شوری کا نام دیتے ہیں ۔ اور کچھ لوگ ، اپنے فیصلے غلط یا صحیح ، ہونے کی ذمے داری کا بار نہ اٹھا سکنے کی اعصابی کمزوری کا شکار ہوتے ہیں تو وہ اپنے جیسے دس پندرہ گدھے گھوڑے اور خچر جمع کر کے ، ناکامی کا بار سب پر لاد دیتے ہیں ۔۔ اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ دوسروں کے مشورے پر چل کر سنت پر عمل پیرا ہیں ۔ جب کہ عام زندگی میں جہاں معاملہ خود کے نکاح یا پھر اپنی آل اولاد کے نکاح کا آئے وہاں یہ افراد چپ چپیتے سب کرجاتے ہیں اور کسی کو مشورے کا دھواں تک نہیں لگنے دیتے ۔۔ کجا یہ کہ کسی سے مشورہ لیں ۔۔ یا اس پر عمل کریں nاس پوسٹ سے کافی سارے افراد کی بڑی آنت کو تکلیف پہنچے گی ۔۔ nپہنچنی چاہئے — ایسے افراد جن میں یہ سینس نہ ہو کہ رائے کس سے لینی ہے ۔۔ اور کس سے نہیں ۔۔ کون اس قابل ہے اور کس کو رائے شماری میں بٹھانا چاہئے یا کون اس قابل ہے کہ وہ بس رائے شماری کے دوران چائے ہی سرو کرتا رہے ۔۔ nاس طرح کے سو کالڈ جمہوری رویہ رکھے والے ڈرامے باز افراد کو فیصلے کی قبض اور رائے کی بواسیر کی شکایت مرتے دم تک رہتی ہے — اور رہنی چاہئے – مجسم سزا ہوتے ہین ایسے فراد۔۔
پوسٹ ختم کرنے کا من نہیں — لیکن یہ میری رائے نہیں فیصلہ ہے کہ پوسٹ ختم کرنی ہے ۔
اس لیے آخری بات کے طور پر یہ اتنا کہوں گا کہ nرائے گرل فرینڈ کی طرح ہوتی ہے کہ ہر کوئی اس کے بارے میں بات کرسکے ،اس کے فگر، اس کی نک سک، اسے ہر عضو پر تبصرہ کرسکے ۔ اور فیصلہ منکوحہ کی طرح ہوتا ہے ۔جس پر کلی اختیار اس شخص کا ہوتا ہے جس نے اسے اون کیا ہو۔۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.