پوسٹ – 2018-04-25

تم لوگ انسانیت کے ٹھیکے دار نہیں ہو n——————————————-nبناسپتی لبرل کہتے ہیں کہ ، مولوی اسلام کا ٹھیکے دار بنتا ہے ، ان مولویوں کو کس نے حق دیا ہے کہ یہ لوگ اسلام کو ڈیفائن کریں ۔؟
بندہ ان ڈارون زادوں سے یہ پوچھے کہ جب تم لوگ اللہ کی بنائی ہوئی مخلوق یعنی انسان ، جس کو انسانیت بھی اسی خالق نے بخشی ہے ۔۔ جب تم اس انسان کی ٹھیکے داری کرتے ہو جو خالق سے ٹکر لے بیٹھے ۔۔ یا پھر اس خالق کے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ناموس پر حملہ آور افراد کو آزادی اظہاررائے کا کور فراہم کرتے ہو ، تو پھر تم سے یہ سوال کیوں نہ کیا جائے کہ ، تم لوگوں نے انسان سے محبت کا ٹھیکہ ، انسانیت کے احترام کا ٹھیکہ ، خالق انسان سے زیادہ لے رکھا ہے کیا ؟۔ اللہ نے انسان بنایا ، انسان کا مکمل کنٹرول اللہ نے اپنے پاس رکھا ، ہمیں بس ایک حد تک اختیار دے دیا ، سمجھ دے دی ، سوچ دے دی، لیکن اپنی تدبیر کو سب سے مقدم رکھا، رستے دکھا دئیے ، نیک و بد سمجھا دیا ، اس کے باوجود اگر کوئی ابلیس کا پیروکار ہو ، ناموس پر حملہ آور ہو ، اللہ کی چادر یعنی کبر پر ہاتھ مارے ۔۔ اس کے وجود کی نفی کرے ، اس سے بھی آگے بڑھ کر اس کی توہین کرے ، تو پھر اللہ کے ہی دئے گئے اصولوں پر اس کا فیصلہ ہونا چاہئے نا ؟ یا پھر تمھارے بنائے گئے ہیومن رائٹس کے مطابق، کیوں کہ مولوی بقول تم لوگوں کے دین کا ٹھیکے دار نہیں ۔۔ اور آگے بڑھ کے کہوں تو کسی بھی ملک کی فوج حب الوطنی کا ٹھپہ لگانے کی مجاز نہیں ۔۔ تم لوگوں کے بقول ایسا ہے تو پھر انسانیت کی معراج سکھلانے والے ، اس کی ٹھیکے داری کرنے والے ۔۔ تم لوگ کیسے ہوسکتے ہو ؟ nnحتی کے ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے nیہ سب بھی خالق انسانیت کا دیا گیا ہے ۔۔ یہ کیوں نہیں سمجھتے — کہ انسانیت محبت اور رحم کا منبع اللہ کی ذات ہے — اس کا مظہر ، اس کے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم تھے ۔۔ ہیں اور رہیں گے ۔۔ تم اور تمھارے انسانیت کے دلدادوں کی انسانیت صرف ناموس پر حملہ آور لوگوں کے لیے جاگتی ہے ، جن کی حیثیت پھر کیڑے مکوڑے سے زیادہ کی نہیں رہ جاتی ، جب وہ خالق سے باغی ہوجائیں ۔۔ کیوں کہ اللہ پر سوال اٹھانا ، نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی توہین ، تم اور تمھارے جیسے بدبختوں کو اشرف المخلوقات کے درجے سے گرا دیتی ہے ۔ nاس وقت تم لوگوں کی انسانیت کہاں جاتی ہے جب قندوز پر بچے شہید ہوتے ہیں تو تم جیسے لوگ کہتے ہیں nاچھا ہوا مر گئے ورنہ بڑے ہو کر خود کش حملہ آور بنتے nاندازہ کر سکتے ہو اس جملے میں چھپی بلکہ عیاں دشمنی ، وحشت اور شیطنیت۔۔
تو جواب میں جب تمھیں ایسی ہی وحشت ملے ، وہ بھی اس وقت جب کوئی واقعتا اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کا ارتکاب کرے تو تم لوگ انسانیت کا راگ نہ الاپا کرو بلکہپھر تم لوگ کتے بلوں کی این جی اوز سے رابطہ کرو تو کرو، کہ وہ تمھارے حقوق کے لیے کچھ کریں لیکن انسانیت کا سبق نہ پڑھاو ۔ محبت کا منبع محمد کی زات ہے ۔۔ تم محبت کے منبع پر سوال اٹھاو گے ۔۔ تو بس پھر تمھیں بدلے میں انسانیت نہیں وحشت ہی ملے گی — nمیں دعوت کا لفظ بھی لکھ سکتا تھا ۔ لیکن دعوت دین آج کل ووٹوں کے لیے ہوتی ہے ۔۔ اور دعوت دینے کا ایک معیار ہے — صرف اور صرف ایک معیار۔۔ nدعوت وہاں دو — جہاں بھوک ہو ، طلب ہو ، چاہ ہو — nگمراہ اور تکذیب کے مجرم کو دعوت نہیں دی جاتی ۔۔
سو کل ملا کے بات اتنی ہے کہ اگر مولوی دین کا ٹھیکیدار نہیں ہے تو تم بھی انسانیت اور اخلاقیات کے ٹھیکے دار نہیں ہو۔۔ کم از کم اس وقت تو بالکل ہو نہیں ہو جب کوئی انسانیت۔/محبت کے منبع پر حملہ آور ہوجائے ۔۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.