پوسٹ – 2018-05-06

آخرکار گرمی کا زور ٹوٹ ہی گیا
ہمارے ننھیالی گاوں میں گرج چمک کے ساتھ مختصر وقفوں پر مبنی بارش شروع.nساتھ ہی ساتھ ٹھنڈی ہوائیں بھی گاوں کی مٹی کی خوشبو سے بغلگیر ہو کر جھوم رہی ہیں ہر طرف مٹی،گندم اور ہریالی کی مخصوص خوشبو ایک تال میل سے ہمکنار ہیں .nکل مغرب کے بعد سے تھریشر کی تیاری زوروں پہ تھی کہ گاوں دیہات میں گندم کی فصل تہوار بن کر اترتی ہے. گھر میں زردہ پکتا ہے رات سے صبح تھریشر کا شور ، دہقانی جل ترنگ نچھاور کرتا ہے
مسکراہٹیں گندم کے دانوں کی طرح خالص ہوتی ہیں یہ سب کل مغرب سے آج فجر تک کا ممکنہ منظر نامہ تھا کہ آج صبح فجر کے بعد آسمان نے فصلوں پر گیلے قہقہے اور چکاچوند مسکراہٹیں گرادیں. nگرمی ٹوٹی پر گندم سی خوشی روٹھی . ہاں یہ ہے کہ کسان کی فطرت کبھی قدرت سے نالاں نہیں ہوتی، ہو ہی نہیں سکتی کہ کون ہے خدا کے سوا جو سوکھے کھیت کو ہرا کردے
یا پھر گرمی کا زور توڑ کر خنکی میں ڈھال.nگاوں دیہاتوں میں، خدا نسبتا زیادہ قریب لگتا ہے کہ شہروں میں انسان کم اور قبریں زیادہ بستی ہیں.

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.