پوسٹ – 2018-06-26

روٹی، پانی اور عوامn————————————–nnگھر میں :nٹماٹر اگر پچاس روپے کلو ہوں تو ایک کلو لے آئیں اگر مہنگے ہو تو آدھا کلو۔
جی بہترnnمارکیٹ میں
بھائی یہ ٹماٹر کتنے رپے کلو ہیں ۔
اسی روپے کلو
آدھا کلوتول دو۔nnکزن سے :nابے یہ بتا وہاں تمھارے “ملک” میں کیا حساب ہیں ٹماٹر۔nnکزن (سادگی سے )nیار وہاں تو بیس روپے کلو کا حساب ہے، اور اس بار کی فصل میں تو اتنے ہوگئے تھے کہ کھا کھا کر ادھ کھائے پھینکنے پڑے۔nnکیا ؟ nnہاں یار بس اب شاید تھوڑے مہنگے ہوجائیں بقرہ عید کی وجہ سے ۔nnواپس آتے ہوئے “اس بار کے سودے سے کتنے پیسوں کی کرپشن کروں ” کے بجائے میں یہ سوچ رہا تھا کہ ۔۔اسی روپے کلو ٹماٹر بیچنے والے ۔۔ بھلا باقی ماندہ “ملکوں” اور ان کے “شہریوں” کو پال سکتے ہین ؟ گنجی نہائے کیا نچوڑے کیا ؟ کہ ایک سمندر کا کھارا غرور بھی کسی کام کا نہیں ، اس کے پانی کا رنگ بھی نیلے سے ہرا بلکہ شاید اب تو کالا پڑ چکا ہے ۔ ظاہر ہے یہ بھی باہر کے “ملکوں” سے آ آ کر لوگوں نے گندہ کردیا ہوگا۔۔ سمندر کا غرور بیچتے بھی کئی سال ہوئے اور حقیقت یہ ہے کہ پانی آئے نہ آئے ، بجلی آئے نہ آئے ، رزاقی کا دعوی نہ جانے پائے بس ۔
اچھی شیروانی پہن کر پھٹی بنیان چھپانا، سادگی یا درویشی نہیں بلکہ حقیقت حال سے باشعور اور بے خبر سی بے شرمی ہے ۔ کیوں کہ محنت سے جی چرائے ، کلرکی کرے ، ڈبل روٹی کھائے ، اور پڑھا لکھا، تہذیب یافتہ کہلائے۔ nسفید پوش طبقے کا نام ، بے ہوش طبقہ ہوجائے تو کم از کم ، پڑھے لکھے مڈل کلاس باشعور عوام کے ٹھپے سے نجات ملے ، یہ تہمت بہت بھاری پڑ رہی ہے ۔ اس شہر کے روٹی اور پانی پر۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.