پوسٹ – 2018-06-27

مجھے محبت کیوں نہیں ہوتی – تیسری قسطn——————————————nسوال کا جواب مجھے مل بھی کیسے سکتا تھا ، بلکہ سوال تو اب یہ کہ اس گلہری کے آنے کے بعد میں نے اپنے سوال سے ہی غداری کیوں کردی تھی، ہاں میں نے یہ کھوجنا بند کردیا کہ مجھے محبت کیوں نہیں ہوتی ۔۔ وقت ہی نہیں مل پارہا تھا ، سوچنے کا ، سارے لمحے ، اور ان لمحوں میں پنپتی سوچیں گلہری پر جو مرکوزتھیں ، وہ جو ہر وقت تپائے رکھتی ، جس کام سے منع کرتا، جس چیز سے چڑ ہوتی ، مزاج برہم ہوتا، وہ اسی چیز کو پورے خشوع و خضوع سے انجام دیتی ۔پھر آنکھیں پٹ پٹاتی ، سر جھکاتی ، ناخنوں سے زمین کترتی ، اور کہتی سوری ۔۔ آنکھوں میں صاف لکھا ہوتا تھا کہ ایک بار سوری دے دے ، اگلی بار ، پھر سے موقع دوں گی ، میں یہ بات جانتا تھا کہ یہ پھر سے وہی سب کرے گی ، اور پھر میں تھا بھی سپاٹ ، سرد مہر، اور بے تاثر سا ۔۔ اسے لگتا کہ میں سوری نہیں بخش رہا بلکہ مزید اذیت سے دو چار کر رہا ہوں ، جیسے ڈرائی آئس کی خشک ٹھنڈک، جب اس کی اداسی پر نظر کرتا ، تو مجھے سمجھ نہیں آتا کہ یہ پاگل عورت ، سوری قبول کیے جانے پر اداس ہے یا سوری کی نوبت آنے پر ۔ اور میں احساسات کہ معاملے میں کورا بلکہ بودا اور نااہل ترین ہوں ۔۔ لفظوں کی بے توقیری میرے لیے “حسب معمول” سا معاملہ ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ میں جان بوجھ کریہ سب کرتا ہوں ، یا پھر مجھ سے ہوجاتا ہے ، بلکہ شاید یہ ایک عمر رفتہ کا شاخسانہ ہے ، کچھ سٹار کا معاملہ کہہ لیں لیکن یہ پائیدار بات نہیں ۔۔ پر یہ ضرور ہے کہ دل میں صرف خون ہے کیفیات کم ہی ہیں ۔ پیٹ روٹی مانگتا ہے ، جذبوں کی فروخت اسٹاک مارکیٹ سی لگتی ہے ۔ خوابوں کا کاروبا ر تو ایور گرین ہے ، دیکھ لیجئے انسانیت کو کیسے سسکتے قدموں سے اٹھا کر تحائف لادے جاتے ہیں ، عزت نفس بدصورت طوائف سی ناچتی ہے ، اور مجبوری ؟ ۔۔ مجبوری حجلہ عروسی میں پھٹے پیوند لگےلباس والی دلہن بنی کھڑی رہتی ہے ۔۔nnعزت نفس ؟ گلہری کا قہقہہ چھت پھاڑ تے ہوئے کہیں گم ہوگیا۔۔ عزت نفس ؟ تم اب عزت نفس کو عزت دو گے ؟ تم یعنی تم ؟ تم جیسے لوگ جو شاید عزت نفس اور کچے ادھ پکے بڑے گوشت میں کوئی فرق نہیں کرتے ۔۔وہ بھی اب عزت نفس پر گیان بانٹیں گے ۔۔ یہ کہہ کر دوپٹہ منہ پر پھیر گئی ۔۔ میں گیان بھول گیا۔ اس کا پسینہ دنیا کے فلسفوں پر سونامی بن جاتا تھا۔۔ کیا کرتا۔۔ بھیڑیے پر کاٹھی جو لد چکی تھی ۔۔nnہاں تو کیا کروں کیا ؟ بھیڑیے نے دانت نکوسے اور ہولے سے غرایا۔۔ کرنا بھی کیا ہے عزت نفس کا معلوم کر کے ؟ ویسے بھی میں تو لفظوں کی بے توقیری کی ممکنہ وجوہات بتا رہا ہوں ۔۔ ورنہ میری بلا سے تو بھی جا کر کسی ہینڈ سم اینکر کے پیچھے بائیک سواری کر اور عمرے کا ٹکٹ جیت۔۔ بھیڑیے نے سر جھٹکا اور سگریٹ سلگا لی ۔۔ ہونٹوں پر ایک تمسخر لہریں لے رہا تھا۔۔nnگلہری کی بڑی کاجل لگی آنکھوں میں ” بے غیرت کہیں کا” لکھا ہوا صاف نظر آرہا تھا۔nnجو بھیڑیے کے ہونٹوں کے دائیں کونے پر پڑےلفظ ” کنجری ہر کسی کی ” کو دیکھ کر معدوم ہوتا چلا گیا۔nnہم دونوں ہی جانتے تھے کہ ہمارے لیے عزت نفس کی وقعت بس ایک وقت کی روٹی کی سی ہے وہ بھی آدھی اور باسی ۔۔ بس پیٹ میں کچھ جائے – چٹخارا آئے نہ آئے ۔۔ ہلکا پھلکا۔۔ زیادہ نہیں ۔۔ اور باقی ماندہ دنیا کا ہم نے کیا کرنا ہے ۔۔ ایک دوسرے کے لیے عزت نفس کا ڈھونگ بس اس طرح کافی ہے کہ روز رات کو وہ واٹس ایپ پر اپنی بالوں بھری دم پلاتی اور میں موجود ہو کر میسج نہ دیکھتا۔۔ پھر صبح آنکھ کھلتے ہی اس کے انباکس کا رخ کرتا۔۔ اس کی آئی ڈی پر لگے ننھے سے سبز نقطے کو تلاشتا ۔۔ ایکٹو ناو کے منٹس کو گنتا ، آنکھیں اس کی وال پر رگڑتا ، پپوٹے تھک جاتے – وہ نہ آتی ۔۔ آتی تو معلوم نہ ہوتا۔ معلوم ہوتا تو میں متوجہ نہ ہوتا۔nnاپنی اناوں کو تو دونوں نے ہی ذبح کر کے شاید کسی کو صدقہ کردیا تھا ۔۔ اس نے تو کر ہی دیا تھا۔۔ پرہم دونوں ہی ایک دوسرے سے لگے مرتعش ہوتے رہتے ، اور یہ سوال خود سوالی بنا رہتا ، کہ یہ محبت ہمیں آخر ہو کیوں نہیں رہی ؟ ہو چکی ہے تو جاگتی کیوں نہیں ؟ نہیں ہو رہی تو یہ کشش کیا ہے ۔۔ اور کیوں ہے ؟ ایسی خالص صبحیں ، ایسی روشن راتیں بھلا محبت کا نصیب ہوتی ہیں یا پھر قدرت نے ہم دونوں کے لیے کوئی نیا جذبہ تخلیق کرنے کا سوچ کر “اسٹے آرڈر ” دیا ہوا تھا۔۔ ہم دونوں کی زندگی اور روٹین پلیٹ فارم جیسی ہوگئی تھی ۔۔ ہم دونوں کو معلوم تھا کہ یہ ویٹنگ روم سی رفاقت دیرپا نہیں ہوگی ۔۔ میں تو شاید ، اس صوفے پر جس پر وہ بیٹھی،اس کی حرارت، اس کے گلاس پر لگی اس کی سانس کی بھاپ ، اس کی لپ اسٹک کے دھندلے بد رنگ سے نشان کو ، اس کے مسلے ٹشو کو اثاثہ کر دوں وہ بھی آثار قدیمہ کا کیوں کہ گھاٹ گھاٹ کا سیلانی ہوں ، پھر بھی نہ گھر کا ہوں نہ گھاٹ کا ہوں بس اس کا ہوں جس کے ساتھ ویٹنگ روم میں ہوتا ہوں ۔۔ایک پلیٹ فارم سے دوسرے پلیٹ فارم تک بھی آنا جانا لگا رہتا ہے ، پر اس پاگل گلہری کا کیا جو شاید عبادت بھی عروسی لباس میں کرتی ہو ، جانتاہوں کہ ایک بار یہ ریل کی بھاگتی پٹڑیوں پر سراب بن کر اتری تو واپس نہیں آئے گی – آ نہیں سکے گی ۔۔ آنا بھی چاہے گی ۔ تب بھی نہیں آسکے گی – معاشرتی بیڑیاں ، بھوک اور جذبے دونوں سے زیادہ سفاک حقیقت ہوتی ہیں ۔ یہ باغی ہے ، اپنے اندر سے ۔۔ میں باغی شاید پوری دنیا سے ، پر اس کے جذبوں، اس کی تکریم ، ڈگنی فائڈ شخصیت کو کیسے چوک چوراہے پر پامال کردوں ۔ کیسے مان سے محافظ کہتی ہے ! میرا مان تو نہیں توڑو گے ۔۔ پھر کچھ بچتا ہے توڑنے کے لیے جب یہ کہہ دیتی ہے ۔۔ کچھ دکھتا ہے ٹوٹنے کے لیے – جب یہ سنتا ہوں ؟ اندر سے کرچی ہو کر مضبوط ہوجاتا ہوں کہ “نہیں استاد ! اسے ٹھیس نہ پہنچے ، تو چاہے باغی سے بکری ہوجا،لہو لہان ہوجا ،فنا ہوجا،اس کی عزت پر حرف نہین آنا چاہئے “– پگلی سمجھتی ہے کہ جسم کی تکریم اور شرم کی حفاظت کرتا ہوں – پاگل عورت – اس لیے اس تعلق کو جہاں ہے جیسا ہے کی بنیا د پر نیرو بنا بانسری بجا رہا ہوں اور رشتہ جل رہا ہے ۔۔ اسے یہ کہتا ہوں کہ بے فکر ہوں پر
جانتا ہوں کہ دونوں کے سینوں میں ٹائم بم نصب ہے جس سے سانس ٹک ٹک کرتی آتی ہے۔ہمارے دل دھڑکتے نہیں ٹک ٹک کرتے ہیں۔۔nn- جاری ہے

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.