پوسٹ – 2018-07-08

۔ ان کا معاملہ اللہ کے پاس پہنچ گیا n————————————–nایم کیو ایم کے لیڈر سلیم شہزاد کی موت کی خبر پڑھنے کے بعد میرے پاس اس سے زیادہ کہنے کے لیے کچھ نہ تھا کہ اس کا معاملہ اللہ کے پاس پہنچ گیا۔
اب اگر اللہ مغفرت فرمائے کہنے لگا تو وہ کہنا دو رنگی لگا– پھر رک گیا ، یہ قساوت قلبی نہیں ہے– بس یہ سوچتا ہوں کہ ایم کیو ایم یا اس طرح کے کسی بھی مافیا سے تعلق رکھنے والے کی طبعی یا غیر طبعی موت کے بعد ان کا ٹریک ریکارڈ ان کے لیے بدعا بن جاتا ہے– اب کس منہ سے کون کہے کہ اللہ مغفرت فرمائے — جو کہہ دے اس کو روک نہیں سکتے — جو نہ کہے — اس کی آنکھوں میں پتھرائے ہوئے سوال کا جواب کون دے کہ اس خونی مافیا نے کتنوں کے لہو سے آبیاری پائی — کیا ان کی مغفرت – کیا قائد کے ان غداروں کو بھی مغفرت کی دعا دینا ؟ چاہیں گے یہ کراچی کے گٹکے ؟ نظریہ ان کا بس اتنا ہوتا ہے کہ آسٹریلیا میں بیٹھا ایک وڈیو بلاگر کراچی کے مسئلوں پر باتیں کرتا ہے اور مہاجروں کو مزید ڈی موٹی ویٹ کرتا ہے — جب کہ خود باہر بیٹھا ہے لیکن باتیں کراچی یا پاکستانی کی صورت حال پر– حالت یہ ہے کہ جب ایسا شخص لہجے میں طنز اور نفرت بھر بھر کر تھوکتا ہے پھر جب حد سے گزرتا ہے تو اس کے والد کو یہاں اٹھایا جاتا ہے تو وہ معافی تلافی کرنے لگتا ہے — اس نظریہ پر تو کھوج ہونی چاہئے کہ یہ کیا نظریہ ہے ؟ یہی سوال میرے ذہن میں صولت کی ویڈیو دیکھ کر ابھرا تھا ۔۔ اور یہی ہر اس کن ٹٹے ، لنگڑے ، کے ٹو، نفسیاتی ، موٹے نوجوان کو دیکھ کر ابھرتا ہے جو دو انگلیوں سے وکٹری کا نشان بنا کر کہتا ہے کہ ہمیں مہاجر ہونے کی سزا دی جارہی ہے — ہمیں الطاف سے پیار کے جرم پر دیوار سے لگایا جا رہا ہے — آئی لو الطاف۔۔ nخصوصا صولت پر تو مجھے اس کی زندگی میں بھی ترس آتا تھا — کیا جوان تھا– کیا گبرو تھا- کس کام آیا– کس جگہ جوانی لگائی- کیا ہاتھ آیا۔۔ ہک ہا– اور اب بابر غوری کی شکل دیکھیں تو یہی احساس ہوتا ہے کہ یہ زندہ کیوں ہے ؟ یہ پچاس کراس کرگئے ہیں ساٹھ کراس کر گئے ہیں ان کے پاس مہلت کتنی بچی ہے ؟ nnشاید بابر غوری اور حیدر عباس اور وسیم اختر جیسی کی شکلوں کی نحوست باقیوں کے لیے کاتب تقدیر کی طرف سے وارننگ ہے آج بھی جب چھوٹے چھوٹے لونڈوں کو حق پرستی پر زہر اگلتے دیکھتا ہوں تو نوے کی دہائی اور پھر ان کی سیکائی یاد آتی ہے– اور آنکھوں کے سامنے شہدا کا قبرستان اور کھجی گراونڈ ایک ساتھ ابھرتا ہے میں فیصلہ نہیں کرپاتا کہ دونوں میں سے رقبہ آور آبادی کس کی زیادہ ہے ..nآخر میں بس اتنا کہہ سکتا ہوں کہ خالد بن ولید اور عظیم طارق جیسوں کا قتل اپنے کندھوں پر رکھ کر الطاف کے نعرے لگانے والے گٹکا خوروں سے کوئی بعید بھی نہیں کہ کینسر کے مریض کو وقت سے پہلے ٹپکا دو– اور پھر الیکشن میں ایک لاش لے کر رونا دھونا شروع کردو– جیسا کہ ان کی اور پاکستانی سیاست کی فطرت ہے ۔۔ لیکن یہ بات صرف ایک گمان ہے ، مجبوری یہ ہے کہ ان کمین خصلتوں سے خوش گمانی رکھنا بہت بہت مشکل ہے ۔ nnاللہ ہم سب پر اپنی رحمتوں کا معاملہ فرمائے

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.