عورت ، عقل، منطق، لول ؟nn———————————————nnکشش کا آخری لمحہ اور تعلقات کی ریڈ لائن نقارہ اس وقت بجاتے ہیں جب مرد نادانستہ طور پر ، ایک عورت کو دوسری سے کمپئیر کرنا شروع کردیتا ہے — جب کہ کرنا نہیں چاہئے– ہو نہیں سکتا– لیکن — بس کشش یہاں مات کھا جاتی ہے اور دوسری عورت فاتح قرار پاتی ہے — یہی ایشیائی یا یوں کہیں پاکستانی عورت سمجھ کر بھی سمجھنے سے قاصر ہوتی ہے ، پھر مظلومیت لے کر رونا دھونا کرتی ہے ۔۔ لیکن وہ ریڈ لائن ، وہ بارڈر ، اس ایک لمحے سے پہلے کا لمحہ جب مرد بار بار وارن کررہا ہوتا ہے اور عورت، سینگ اڑا کر “میں تو حق پر ہوں ” کے پھیریرے اڑانا چاہ رہی ہوتی ہے– وہ سب مٹی ہوجاتا ہے —بلکہ تعفن ذدہ مٹی ، کہ گزرے ماہ و سال ابکائی دیتے محسوس ہوتے ہین، مزے کی بات تو یہ ہے کہ مرد پر فاتح ہونے کی ذلیل خواہش رکھنے والی ایسی بظاہر پاکباز، اچھے خاندانوں کی شریف اور سو کالڈ پاکیزہ لیکن رزیل عورتیں پھر “کیا” پر فوکس کرتی ہیں ۔۔ کیوں پر نہین ۔۔ یعنی nمیرے ساتھ کیا ہوگیا، یہ میرے ساتھ ہی کیوں ہوگیا، میں تو ایسی ، میں تو ویسی ، لول — میرے ساتھ یہ ہوگیا وہ ہوگیا– میں یہ میں ہو– میں میں میں — لیکن مرد کے وارن کرنے کے باوجود– یہ نہیں سوچتیں کہ جو ہوا وہ کیوں ہوا– اب بات یہ ہے کہ ، کیا نامی بیماری کا تعلق ہوتا ہے — دل سے- -جذبات سے — اور کیوں نامی ویکسین، انجکش، ڈرپ ، یا آپریشن کا تعلق ہوتا ہے–عقل سے منطق سے دماغ سے– پھر بندہ یہی سوچ سکتا ہے — عورت ؟ ، عقل؟، منطق؟، لول —-

اترك رد