پوسٹ – 2018-07-11

لال کوٹھی سے شاہراہ فیصل ، nشاہراہ فیصل سےپارکنگ پلازہ nپارکنگ پلازہ سے کشمیر روڈ ، جیل چورنگی اور پھر سوک سینٹر
اس روٹ پر آج آٹھ سے دس افراد بائک سے گرے ہوئے دیکھے ،جن میں ایک آغا خانی انکل آنٹی بھی تھے اور ایک سنگل چاچا بھی لگ رہا تھا کہ ٹھیک ٹھاک لگی ہے — پھر لونڈے تو ایسے ٹنا ٹن گرتے نظر آرہے تھے جیس وہ کیا شعر ہے ۔۔nnمگس کو باغ میں جانے نہ دیجو والا — پروانے کی ناحق لگ جائے گی ۔۔ nn وجہ وہی مون سون کی مستیاں ، ایک چیز تو بہت اچھی لگی ۔۔ لوگوں نے زیادہ پھسلن والی جگہوں پر ٹولیاں بنا بنا کر دور سے ہی لوگوں کو خبردار کرنے کا کام شروع کیا ہوا ہے ۔۔ کہ یہاں آہستہ بالکل آہستہ ، nزیادہ اچھا یہ لگا کہ جن بائکس پر لیڈیز یا بچے سوار ہیں ، ان کو جگہ جگہ احتیاطی تدابیر بتائ جا رہی ہیں اول تو اس موسم میں عورت یا بچوں کو بائک پر لے کر نہیں نکلنا چاہئے ، چلو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پہلے نکلے اور بارش رستے میں ہوگئی ۔۔ پھر بھی عورت اور بچوں کے ساتھ سنبھلنا سنبھالنا دشوار ہوجاتا ہے۔۔ لونڈے لپاڑے تو گرتے ہی رہتے ہیں جوان خون جلد مندمل ہوجاتا ہے۔۔ پھر بھی یہ بات دیکھ کر محسوس ہوا کہ لوگ رک کر حال پوچھتے ہیں ۔۔زیادہ پھسلن والی جگہ پر مٹی ڈال کر مداوا کیا گیا ہے ۔۔اللہ خیر کرے– دیکھیں گرنا ایشو نہیں ۔ گرنے کے لیے تیار رہیں اوراللہ سے پناہ مانگتے رہیں۔باقی یہ کہ گرتے وقت اگر اکیلے ہیں خاص طور پر – اسوقت حواس سلامت رکھیں ، ہیلمٹ پہننے کا لیکچر نہیں دوں گا– کیوں کہ خود کوئی خاص پابندی نہیں کرتا۔۔ اس کی– کرنی چاہئے پر سستی کرجاتا ہوں ۔۔ ہاں ۔۔ یہ ہے کہ حواس قائم رہیں گے تو ہاتھوں کو سر پر رکھ کر بچانے اور پیچھے سے آتی گاڑی کا خیال رہے گا– کہ وہ کوئی نقصان نہ کردے — گرنا نا گرنا اللہ کے ہاتھ میں ہے- بریک کم لگائیں ، پاوں زمین پر لگا لگا کر آئیڈیا لیتے رہیں ، بائک بہت آہستہ چلائیں ،، یہ سوچ لیں کہ دفتر جانے کی جلدی ہے یا اوپر ؟nnپبلک سروس میسج ، بحکم محکمہ زراعت ۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.