وہ اور نعیم اکثر من کی مراد پوری نہ ہونے پر الجھ پڑتے تھے ۔۔
نعیم بھائی ذرا زور آورتھے اس لیے وہ مراد کو پہلے پاجاتے تھے ، واضح رہے کہ ہمارے ہاں پا جانے کا مطلب حاصل کرلینا ہوتا ہے، جبکہ یہ مجھے مرادوں والی نصیبوں والی پکارا کرتے تھے ، جب بھی آواز دیتے تو میری مراد بھر آتی اور ان کی آنکھیں۔ دن گزرتے جارہے تھے ،
موم بتیوں کا خرچہ بھی کم ہوگیا تھا، کہ ایک بار نعیم بھائی کے غصے نے کام بگاڑ دیا، ایک تقریب سعید نے انہیں نے من کی مراد پوری کرنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ آج میری ٹاک شو میں ہاتھا پائی ہوگئی ہے اور میں تھوڑا غصے میں بھی ہوں اس لیے میں کسی قسم کی کوئی مراد براری نہیں کرسکتا– میری باچھیں کھل گئیں اور وہ تشکر آمیز نظروں سے ، آنکھوں ہی آنکھوں میں مرادوں والی کہتے ، میں ایسے موقعے پر انہیں منتوں ترلے والا کہہ کر چھیڑ دیا کرتی ۔۔
صبح ہوئی تو نعیم بھائی اور وہ ایک دوسرے کے پاس لیٹے ہوئے تھے اور ریموٹ سے چینل بدل رہے تھے ۔۔n نعیم صاحب کے برابر میں ہی شیرو موجود تھا ، nارے بھائی یہ شیرو کی دم نہیں ۔۔
نعیم بھائی ایک دم مچلے
اوہ اچھا سوری – اب کی بار ان کا ہاتھ شیرو کے فر پر پڑا۔ شیرو نیم وا آنکھوں سے ان کی طرف دیکھ کر رہ گیا۔۔ جیسے کہہ رہا ہو کہ نعیم سر میں وہ کیا ہے جو مجھ میں نہیں ۔۔ nہم لوگ پاس آئے تو، نعیم صاحب نے اٹھ کر مرادوں والی کی مراد کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور اس کا ہاتھ میں لے آنکھوں سے لگا لیا۔۔
وہ کافی ادھ موا سا تھا
مجھے آنکھوں سے سلام کا پیغام دیا nاور کہا کہ اچھا ہم چلتے ہیں ۔۔
ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ۔۔ باہر نکل گئے nجائیں آپ نہا لیں ۔۔ nشیرو اٹھا اور چل پڑا
ارے بھئی تمہیں نہیں کہہ رہی ۔۔
اٹھئے نا– یہ لیجئے مکان کے کرائے کی آخری تاریخ ہے ۔۔ آج بجلی کا بل بھِی جمع کراونا ہے میں تھکی تھکی سی ان کے برابر ہی بیٹھ۔ گئی
انہوں نے نوٹوں کی ایک کریز بنائی اور احتیاط سے زمین پر پڑے سفوف کو دائیں بائیں گھسیٹا اور جھک کر ناک سے سونگھنے لگے۔۔ شیرو بھی ان کے ساتھ تھا۔۔
ہٹ پیچھے ۔۔آگے ہی بہت مہنگی ہے– یہ کہتےہی انہوں نے ایک جھٹکے میں وہ سفوف ناک میں سڑک لیا۔
اور باقی نوٹ جیب میں ڈال کر بیان لکھنے لگے
میں نے دیکھا پرچے پر لکھا تھا
ووٹ بھی دو اور نوٹ بھی۔۔nn – مینڈا نشئی سے اقتباس
پوسٹ – 2018-07-12
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد