پوسٹ – 2018-07-28

اپنے لیے تو یہ ایمان کا معاملہ ہے ۔۔n———————————-nnاس کتاب یا اس میں موجود کرداروں کی جز و کل سے اتفاق کرنا یا نہ کرنا آپ کی اپنی صوابدید ہے ، اپنے لیے تو بہرحال یہ ایمان کا معاملہ ہے ، بات کچھ یوں ہے کہ منٹو کے نسوانی کردار، نامی کتاب امجد جاوید صاحب کی تصنیف ہے ،اس کتاب میں منٹو کے تخلیق کردہ نسوانی کرداروں پر سیر حاصل مضامین موجود ہیں ، کہ ممی ایسی کیوں تھی ، سلطانہ نے جو کیا وہ کیوں کیا ، گھاٹن لڑکی ، کی ذہنی پراگندگی کی وجہ کیا تھی ، شانتی ، شاردہ ، محمودہ ، کلونت کور، یہ سب ہیولے مجسم خام کیوں نہ ہو سکے ، یہ بھڑکے تو افسانے راکھ بن گئے ۔۔ ان پہلووں کے علاوہ اس کتاب کے آغاذ میں ایک مضمون ہے جس کا نام ہے ، منٹو کے عہد کی المیاتی تصویریں “nاس مضمون کو دیباچہ یا پیش لفظ انداز میں لکھا گیا ہے ، اس میں ایک جگہ امجد صاحب نے ایک عظیم مصنفچوہدر محمد علی رودلوی کا ایک جملہ لکھا ہے nوہ کہتے ہیں nn”کوئی بھی عورت بدصورت نہیں ہوسکتی “nnاس ایک جملے میں عورت کی فطرت سمو دگی گئی ہے ، غور کیجئے اگر وہ اس جملے کے ساتھ یہ کہہ دیتے کہ کوئی بھی عورت بدصورت نہیں ہو سکتی اگر اس میں اطاعت ہے ، تو یہ غلط ہوتا ؟ ہاں حسین سے حسین عورت بھی پاتال کی کیچڑ ہوجاتی ہے اگر اس میں فرمابنرداری نہ ہو۔۔nnآپ کی کیا رائے ہے ؟nnجو بھی رائے ہو اس کی اہمیت صرف آپ کی اپنی آنکھوں ہی ہوگی یہ یاد رکھیں کہ اپنے لیے تو یہ ایمان کا معاملہ ہے ۔۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.