حافظ قرآن رینجر والاn——————————————nnمسجد کے باہر ایک رینجر والا تعینات تھا، شاید چھبیس ستائیس سال کی عمر ہوگی کافی دنوں سے اس کا ایک ہی معمول تھا ، کہ جب تک نماز ہوتی رہتی ہے ، مستعدی سے جما کھڑا رہتا ہے لیکن لب ہلتے رہتے ہیں جیسے کچھ پڑھ رہا ہو۔ اور جماعت ہوتے ہی اندر جاتا ہے وضو کر کے نماز پڑھتا ہے ۔باقی سب ٹھیک تھا، دوران جماعت اس کی مستعدی بھی سمجھ میں آتی تھی، کہ حالت جنگ میں نمازیوں کی حفاظت کے لیے اپنا سینہ کھولے کھڑا ہے ۔جماعت کے بعد نماز ادا کرنا بھی سمجھ آتا ہے ۔پر منہ ہی منہ میں کیا پڑھتا ہے یہ نہ سمجھ میں آیا ۔۔ آخر ایک دن پوچھ لیا۔
سر جی کیا پڑھتے رہتے ہو ؟ n” یار کچھ نہیں ” اس کی میٹھی سی مسکراہٹ نے تجسس کو مزید گہرا کردیاn” پھر بھی یار بتاو تو”، اپنی عمر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یار کا لفظ لگانے پر بھی اس کی پیشانی پر شکنیں نہ پڑیں تو حوصلہ بڑھ گیا۔n”سر جی کچھ نہیں بس وہ میں حافظ قران ہوں، اور دوران ڈیوٹی میری عادت ہے کہ دہرائی کرتا رہتا ہوں ، کسی پارے کا کوئی حصہ زبان پر جاری رہتا ہے ۔”nnابھی تک اس کے درجے کا تعین کرنا مشکل ہورہا ہے ۔
ایک تو نمازیوں کی حفاظت، ڈیوٹی کے دوران قرآن کی تلاوت اور سب سے بڑھ کر نماز کی ادائگی کے فرض پر سبقت۔
پوسٹ – 2018-08-04
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد